تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 157 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 157

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 153 مانیہ کا سولہواں سال اسلام راجپال کے قاتل علم دین کو میانوالی جیل میں پھانسی کی سزا دی۔مگران کی لاش مسلمانوں کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا جس پر مسلمانوں میں زبردست ہیجان پیدا ہو گیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حکومت کے اس غیر دانشمندانہ رویہ پر سخت تنقید کی اور فرمایا۔اس سے فساد بڑھے گا۔جب ایک شخص مرگیا اور قانون کی حد ختم ہو گئی۔تو اس سے آگے قدم بڑھانا فتنہ پیدا کرنا ہے یہ بہت ہی نا معقول حرکت ہے جو حکومت سے سرزد ہوئی یہ تو خواہ مخواہ مسلمانوں کو چڑانے والی بات ہے پھر اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنے دیا گیا۔حالانکہ یہ ہر مسلمان کا مذ ہی حق ہے جس سے محروم کرنا بہت بیہودہ بات ہے۔آخر حکومت کو مسلمانوں کے سامنے جھکنا پڑا اور لاش مسلمانوں کے حوالہ کر دی گئی۔لاہور میں اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔حضور کو اطلاع ملی کہ جنازہ میں مسلمانوں کا بڑا ہجوم تھا۔جس پر آپ نے فرمایا کہ ” یہ ایک مظاہرہ کی اچھی صورت تھی اس کا یہ اثر ہو گا کہ آئندہ کسی شخص کو ایسی امن شکن حرکات کی کم جرات ہو گی جیسے راجپال نے کی تھی۔ملکی ترقی کے لئے اتحاد نہایت ضروری ہے اور اتحاد ترقی نہیں کر سکتا جب تک فتنہ انگیز حرکات کا انسداد نہ ہو "۔اور فرمایا اتنے بڑے مجمع کا ایسی حالت میں مسلمانوں نے بہت اچھا انتظام کیا اور کوئی ناگوار واقعہ رونما نہ ہوا۔ایسے انتظامات سے قوم کی اچھی ٹریننگ ہو سکتی ہے "۔1-5 سالانہ جلسہ کے لئے چندہ کی تحریک حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسی الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ۱۵/ نومبر ۱۹۲۹ء کے خطبہ جمعہ میں پوری جماعت کو اور پھر مکتوب کے ذریعہ اس کے کارکنوں کو سالانہ جلسہ کے چندے کی فورنی وصولی کے لئے تحریک فرمائی۔یہ تحریک نہایت ہی تنگ وقت میں شائع ہوئی لیکن جماعت نے حیرت انگیز جوش سے اس کا استقبال کیا۔بعض جماعتوں اور احباب نے مقررہ چندہ سے ڈیوڑھا دو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ چندہ بھیج دیا۔جس پر حضور نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔دیوانہ وار تبلیغ کرنے کا ارشاد ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ء کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت سے لگ جاؤ ورنہ آئندہ نسلیں بھی کمزور ہو جا ئیں گی۔بذریعه خطبه جمعه ارشاد فرمایا کہ دیوانہ وار تبلیغ احمدیت میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ملک میں تبلیغ احمدیت کا دائرہ وسیع مبلغین کو خاص ہدایت تر کرنے کے لئے ۱۴ دسمبر ۱۹۲۹ء کو ہدایت فرمائی کہ مبلغین خاص طور پر ان مقامات میں بھجوائے جائیں۔جہاں ابھی تک کوئی جماعت قائم نہیں ہوئی چنانچہ فرمایا۔ہماری تبلیغ میں ایک روک ہے عام طور پر ہمارے مبلغین انہی مقامات پر جاتے ہیں جہاں پہلے ہی