تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 156
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ دو سرا باب (فصل چهارم) 152 خلافت ثانیہ کا سولہواں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ سلطنت برطانیہ کے آثار زوال الصلوۃ والسلام کو ۱۸۹۱ء میں جبکہ برطانوی سلطنت کا آفتاب بری آب و تاب سے چمک رہا تھا الہام ہوا سلطنت برطانیه تا ہشت بعد ازاں ضعف سال فار ر اختلال چنانچه ۲۲ جنوری ۱۹۰۱ء کو ملکہ وکٹوریہ انتقال کر گئیں ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم ہوئی جس نے اتحادیوں کی طاقت پر بڑی ضرب لگائی۔۱۹۱۸ء میں انگریز ہندوستان کو سیاسی حقوق دینے کے اعلان پر مجبور ہو گئے۔۱۹۲۸ء میں ہندوستان کو مزید اختیارات دینے کے لئے انگلستان سے مشن آیا اور سلطنت برطانیہ تاہشت سال" کی صداقت کے آثار نمایاں ہونے لگے۔"1 یہ حقیقت بین الاقوامی حیثیت سے بھی اب ایسی واضح نظر آرہی تھی کہ سرونسٹن چرچل جیسے و برطانوی مفکر نے انہی دنوں " کیا برطانوی سلطنت کا خاتمہ قریب ہے " کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں کھلا اقرار کیا کہ اس میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ موجودہ صدی سلطنت برطانیہ کے لئے فائدہ بخش نظر نہیں آتی۔سلطنت کو گزشتہ صدی سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے انیسویں صدی میں اس کو دوسری حکومتوں پر جو تفوق حاصل تھا وہ کم ہو رہا ہے۔برطانیہ کو اپنی بحری طاقت پر ناز تھا۔لیکن ہوائی قوت اس کے لئے مملک ثابت ہوئی ہے اور بے نظیر بحری قوت کے گھمنڈ کا خاتمہ ہو گیا ہے مالی لحاظ سے جو فوقیت انگلستان کو حاصل تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔اس سے قبل جو قومیں اور ملک ہمارے مطیع و فرمانبردار تھے ان میں اب بیداری پیدا ہو چکی ہے اور حکومت خود اختیاری حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ہندوستان کی سب سے بڑی تحریک وہ ہے جو گو ر نمنٹ کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اس تحریک کے پیرو ہر ایسے رکن کو جو انسانوں کے اس وسیع سمندر میں انتظام وانصرام کے لئے جاتا ہے۔ناقابل التفات سمجھتے ہیں۔(تلخیص و ترجمہ 1 |44 حکومت میاں علم دین صاحب کی لاش اور حکومت کا غیر دانشمندانہ رویہ کے دشمن نے