تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 148
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 144 خلافت مانید حضور نے تعزیت کا مندرجہ ذیل تار ارسال فرمایا۔۲۴/ جون محمود آباد - سرینگر مولوی شیر علی صاحب کا تار حافظ روشن علی صاحب کی وفات کے متعلق ملا۔انا للہ وانا الیه راجعون۔مجھے بہت افسوس ہے کہ میں وہاں موجود نہیں ہوں تاکہ اس قابل قدر دوست اور زبردست حامی اسلام کی نماز جنازہ خود پڑھا سکوں۔حافظ صاحب مولوی عبد الکریم صاحب ثانی تھے اور اس بات کے مستحق تھے کہ ہر ایک احمدی انہیں نہایت عزت و توقیر کی نظر سے دیکھے۔انہوں نے اسلام کی بڑی بھاری خدمت سر انجام دی ہے اور جب تک یہ مقدس سلسلہ دنیا میں قائم ہے انشاء اللہ ان کا کام کبھی نہیں بھولے گا۔ان کی وفات ہمارے سلسلہ اور اسلام کے لئے ایک بڑا صدمہ ہے لیکن ہمیشہ ایسے ہی صدمے ہوتے ہیں جنہیں اگر صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے جاذب بن جاتے ہیں ہم سب فانی ہیں لیکن جس کام کے لئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں۔وہ اللہ تعالی کا کام ہے جو موت و حیات کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ غیر معلوم اسباب کے ذریعہ اپنے کام کی تائید کرے گا۔چونکہ ہماری جماعت ہمارے پیارے اور معزز بھائی کی خدمات کی بہت ممنون ہے اس لئے میں درخواست کرتا ہوں کہ تمام دنیا بھر کی احمد یہ جماعتیں آپ کا جنازہ پڑھیں۔یہ آخری خدمت ہے جو ہم اپنے مرحوم بھائی کی ادا کر سکتے ہیں۔لیکن یہ بدلہ ان بیش قیمت خدمات کے مقابلہ میں جو انہوں نے اسلام کے لئے کیس کیا حقیقت رکھتا ہے۔میں احباب کے ساتھ سرینگر میں نماز جنازہ پڑھوں گا۔اگر لاش کے متغیر ہو جانے کا خوف نہ ہو تا تو التوائے تدفین کی ہدایت دے کر میں اس آخری فرض کو ادا کرنے کے لئے خود قادیان آتا۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ہم سے رخصت ہو گئے ہیں اور ان پر بھی جو زندہ ہیں اپنی رحمتیں نازل فرمائے"۔چنانچہ یہ تار پہنچنے کے بعد قادیان میں ۲۴/ جون کو اابجے کے قریب حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی سے جہاں ایام علالت میں آپ مقیم تھے آپ کا جنازہ اٹھایا گیا۔جنازہ کے ہمراہ ایک انبوہ کثیر تھا۔حضرت مسیح موعود کے باغ میں حضرت مولوی شیر علی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور یہ مقدس اور خدا انما وجود مقبرہ بہشتی میں دفن کر دیا گیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سرینگر میں نماز جنازہ پڑھائی اور دوسرے مقامات کی احمدی جماعتوں نے حضور کے حکم کے مطابق اپنی اپنی جگہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔حضرت امیر المومنین نے ۲۸/ دسمبر ۱۹۲۹ء سالانہ جلسہ کے موقعہ پر حافظ صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا۔