تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 149 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 149

"" رحیت - جلد ۵ 145 ثانیہ کا میں سمجھتا ہوں میں ایک نہایت و فادار دوست کی نیک یاد کے ساتھ بے انصافی کروں گا اگر اس موقعہ پر حافظ روشن علی صاحب کی وفات پر اظہار رنج و افسوس نہ کروں۔حافظ صاحب مرحوم نہایت ہی مخلص اور بے نفس انسان تھے۔میں نے ان کے اندروہ روح دیکھی۔جسے اپنی جماعت میں پیدا کرنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواہش تھی۔ان میں تبلیغ کے متعلق ایسا جوش تھا کہ وہ کچھ کہلوانے کے محتاج نہ تھے۔بہت لوگ مخلص ہوتے ہیں کام بھی اچھا کرتے ہیں مگر اس امر کے محتاج ہوتے ہیں کہ دوسرے انہیں کہیں کہ یہ کام کرو تو وہ کریں۔حافظ صاحب مرحوم کو میں نے دیکھا وہ سمجھتے تھے گو خدا تعالٰی نے خلیفہ مقرر کیا ہے۔مگر ہر مومن کا فرض ہے کہ ہر کام کی نگہداشت کرے اور اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے وہ اپنے آپ کو سلسلہ کا ایسا ہی ذمہ دار سمجھتے تھے جیسا اگر کوئی مسلمان بالکل اکیلا رہ جائے اور (وہ اپنے آپ کو ذمہ دار) سمجھے یہ ان میں ایک نہایت ہی قابل قدر خوبی تھی اور اس کا انکار ناشکری ہو گا یہ خوبی پیدا کئے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی کہ ہر شخص محسوس کرے کہ سب کام مجھے کرنا ہے۔اور تمام کاموں کا میں ذمہ دار ہوں۔میں سمجھتا ہوں ایسے ہی لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اگر مجھے چالیس مومن میسر آجائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر لوں۔یعنی ان میں سے ہر ایک محسوس کرے کہ مجھ پر ہی جماعت کی ساری ذمہ داری ہے اور میرا فرض ہے کہ ساری دنیا کو فتح کروں۔حضرت حافظ روشن علی صاحب کی وفات سے جماعت حضرت حافظ صاحب کے جانشین کے تبلیغی کاموں میں جو لا پیدا ہوگیا اس کاپر ہو تابست ہونا مشکل نظر آتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعض نامور شاگردوں کو جنہیں آپ نے مرض الموت میں وصیت فرمائی تھی کہ ”میرے شاگر د ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں " اس خلا کے پر کرنے کے لئے آگے بڑھا دیا اور انہوں نے تبلیغ واشاعت دین کے میدان میں ایسی ایسی خدمات سر انجام دیں کہ وہ حضرت حافظ روشن علی ثانی بن گئے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔" کچھ عرصہ کے بعد جب ادھر میر محمد اسحاق صاحب کو انتظامی امور میں زیادہ مصروف رہنا پڑا اور ان کی صحت بھی خراب ہو گئی اور ادھر حافظ روشن علی صاحب وفات پاگئے تو۔۔۔۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے فورا مولوی ابو العطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو کھڑا کیا اور جماعت نے محسوس کیا کہ یہ پہلوں کے علمی لحاظ سے قائم مقام ہیں " حضرت حافظ روشن علی کی وفات کے بعد افتاء کی اکثر و بیشترذمہ داری حضرت مولاناسید سرور A- شاہ صاحب کے کندھوں پر آپڑی جسے آپ عمر بھر کمال خوبی و خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔