تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 99
تاریخ احمدنیت، جلد ۵ 95 خلافت ثانیہ کا پندر سال سے زیادہ تھی۔اور جو اپنی وضع کی اتنی پابند تھیں کہ انہوں نے اپنے گھر کے سوا کبھی کسی دوسری جگہ رات بسر نہیں کی تھی اور پہلی باری ریل گاڑی دیکھی تھی۔جس میں وہ قادیان آئی تھیں۔پنجاب کے تمام اضلاع اور ہندوستان کے مختلف حصوں کے علاوہ مالا بار کابل اور ماریشس سے بھی کچھ احباب تشریف لائے تھے۔غیر احمدی اصحاب جن میں بڑے بڑے سرکاری عہدیدار مجسٹریٹ ، وکلاء بیرسٹرز رؤساء علی گڑھ اور اسلامیہ کالج لاہور کے پروفیسر شامل تھے۔بڑی کثیر تعداد میں آئے۔مثلا شمس العلماء مولانا الطاف حسین حالی پانی پتی کے فرزند ارجمند خواجہ سجاد حسین صاحب بی۔اے اور خان بهادر چوہدری (نواب) محمد دین صاحب ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر غیر مسلموں میں بنارس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے راج قابل ذکر تھے۔جلسہ کے منتظم اعلیٰ اور ناظر ضیافت حضرت میر محمد اسحاق صاحب تھے۔آپ کے زیر انتظام اندرون قصبه حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور بیرون قصبہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب انچارج تھے۔اور حسب معمول ہر اہم صیغہ کے علیحدہ علیحدہ انچارج اور ان کے مددگار مقرر تھے۔جلسہ پر قریباً تین سو مردوں نے بیعت کی۔بیعت ہونے والی مستورات کی تعداد مزید برآں تھی۔PAL حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ابتداء خلافت ”فضائل القرآن" پر سلسلہ تقاریر کا آغاز سے یہ دستور رہا ہے کہ حضور سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ہمیشہ ایک خالص علمی موضوع پر تقریر فرمایا کرتے ہیں۔چنانچہ ۱۹۲۸ء کے جلسہ پر حضور نے " فضائل القرآن " کے عنوان پر ایک اہم سلسلہ تقاریر کا آغاز فرمایا۔جو (۱۹۳۳ء تا ۱۹۳۵ء کو مستی کر کے (۱۹۳۶ ء کے جلسہ تک جاری رہا۔حضور کا نشاء مبارک در اصل یہ تھا کہ قرآن کریم کی فضیلت سے متعلق سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں جو تین سو د لا کل لکھنے کا وعدہ فرمایا تھا وہ اگر چہ حضور ہی کی دوسری تصنیفات میں پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ملارد ، نظام کی طور پر بھی پورا کر دیا جائے۔مگر مشیت ایزدی کے مطابق صرف چھ لیکچر ہو کے۔" فضائل القرآن" کے لیکچروں کے اس بیش بہا مجموعہ میں جو ۴۴۴ صفحات پر مشتمل ہے۔حضور نے قرآن مجید کے دوسرے مذاہب کی الہامی کتابوں پر فضیات کے متعدد دار ٹل جیتے ہیں اور قرآن مجید کے بہت سے مشکل مقامات کو نہایت خوبی نفاست سے قتل کیا۔ہے ، مستر فین کے اعتراضات کا ایسے موثر رنگ میں جواب دیا ہے کہ انسان عش عش کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس سلسلہ کی چھٹی تقریر حضور کے ایک ایسے چیلنج پر ختم ہوتی ہے جس کو قبول کرنے کی جرات