تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 100
--- تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 96 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال آج تک کسی غیر مسلم مفکر کو نہیں ہوئی۔یہ چیلنج ان الفاظ میں تھا: " قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی کسی اور کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعوئی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی دید کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی تو ریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں استعارہ سمجھوں پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی پیش نہ کر دوں تو وہ بے شک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں "۔۱۹۲۸ء میں رحلت پانے والے بزرگ سلسلہ احمدیہ کے قدیم بزرگ اب بڑی تیزی سے رخصت ہوتے جا رہے تھے۔چنانچہ اس 741 سال مندرجہ ذیل بزرگوں کا انتقال ہوا۔(۱) حضرت صوفی مولا بخش صاحب ( تاریخ وفات ۱۴ فروری ۱۹۲۸ء) (۲) حضرت شهزاده عبد المجید صاحب لدھیانوی مبلغ ایران تاریخ وفات ۲۳ فروری ۱۹۲۸ء) (۳) حضرت شیخ نوراحمد صاحب مالک مطبع ریاض ہند امرت سر ( تاریخ وفات /٨ / جون ۱۹۲۸ء) (۴) حضرت میاں سراج الدین صاحب ( تاریخ وفات ۲۷ / جولائی ۱۹۲۸ء) (۵) حضرت ڈاکٹر کرم الہی صاحب امرت سری ( تاریخ وفات ۱۰ اگست ۶۱۹۲۸ ) ) (۲) حضرت حافظ نور احمد صاحب لدھیانوی ( تاریخ وفات (۲۸/ اکتوبر ۱۹۲۸ء) ان صحابہ کے علاوہ حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب کے ماموں حضرت سیٹھ الہ دین بھائی ابراہیم صاحب سکندر آباد دکن بھی پچاس سال کی عمر میں ) تاریخ ۲۰/ فروری ۱۹۲۸ء وفات پاگئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ " احمد یہ جماعتیں ان کا جنازہ پڑھیں اور دعاء مغفرت کریں "۔ES بیرون ملک بھی بعض ممتاز احمدیوں کا انتقال ہوا۔مثلا نائجیریا میں سلسلہ احمدیہ کے ایک قدیم فدائی امام محمد بینا ڈوبری چیف امام شہر لیگوس قریب ستر برس کی عمر میں وفات پاگئے۔III آپ ۶ / جون ۱۹۲۱ء کو اپنے چالیس ساتھیوں سمیت مولانا عبد الرحیم صاحب نیر کے ذریعہ بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔بیعت کے بعد ان پر بہت ابتلاء آئے گالیاں دی گئیں مقدمات کئے گئے مگر ان کے استقلال میں ڈرا فرق نہ آیا۔