تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 98 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 98

تاریخ ادیت شدند 94 ہستی ایسی عظیم الشان تھی جو اسلام کے واسطے ایک قدرتی انعام تھا۔میں اپنے والد صاحب مرحوم مرزا غلام احمد صاحب کو ایک سچا انسان اور پکا مسلمان الموسوم مسیح موعود علیہ السلام سمجھتا ہوں۔اور ان کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہوں اور میں اپنے آپ کو اس رنگ میں ایک احمدی سمجھتا ہوں۔آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ کیوں حضرت مولوی نور الدین صاحب یا میاں محمود احمد صاحب یا مولوی محمد علی صاحب کی بیعت نہیں کی۔اس کا جواب یہ ہے میں نے کبھی اپنی زندگی میں باوجود اس کے کہ میرے والد صاحب مرحوم میری بعض کمزوریوں کی وجہ سے میرے فائدہ کے لئے مجھ پر ناراض بھی تھے۔اور میں اب صدق دل سے یہ اعتراف بھی کرتا ہوں کہ ان کی ناراضگی واجبی اور حق تھی۔باوجود ان کی نار اختگی کے بھی میں نے کبھی اخیر تک بھی ان کے دعاوی اور ان کی صداقت اور سچائی کی نسبت کبھی کوئی مخالفانہ حصہ نہیں لیا۔جس کو میرے احمدی اور غیر احمد کی دوست بخوبی جانتے ہیں جو قریباً ۳۰ سال سے میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اس سے زیادہ اور کیا میری صداقت ہوگی اور بائیں حالات کون کہہ سکتا ہے کہ میں ان کا مخالف یا ان کے دعادی کا منکر ہوں۔جب یہ حالت ہے تو مجھے کوئی یہ الزام نہیں دے سکتا کہ میں ان کا منکر تھایا ہوں۔۔۔بیعت کیا چیز ہے ایک یقین اور صداقت کے ساتھ ایک مقدس انسان کے ہاتھ میں ہاتھ دینا اور اس کے ساتھ ہی صدق دل سے خدا کو اس امر پر شاہد کرنا۔پس میں اب تک اپنے والد صاحب مرحوم کو سچا مسیح موعود مانتا ہوں اور میرا خدا اس پر شاہد ہے میں اعلان اور اظہار کو بیعت یقین کرتا ہوں"۔قبول احمدیت کا اعلان کر دینے کے بعد بیعت خلافت کا جو نازک ترین مرحلہ باقی تھاوہ بفضلہ تعالی ۲۵/ دسمبر ۱۹۳۰ء کو بخیر و خوبی طے ہوا۔جیسا کہ آگے بالتفصیل ذکر آئے گا۔سالانہ جلسہ ۲۶۶۱۹۲۸ / دسمبر سے شروع ہو کر ۲۸ / دسمبر ۱۹۲۸ء کو بخیر و سالانہ جلسه ۱۹۲۸ء خوبی ختم ہوا۔ریل کے جاری ہونے کی وجہ سے اس سال مہمانوں کی تعداد میں پہلے کی نسبت غیر معمولی اضافہ ہوا۔مہمانوں کی ایک خاصی تعداد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں 19 / دسمبر کو جبکہ پہلی گاڑی قادیان پہنچی مرکز میں آگئے اور ۲۳ / دسمبر کے بعد قادیان آنے والوں کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ محکمہ ریلوے کو معمول کے مطابق گاڑیوں کے علاوہ ایک اسپیشل ٹرین روزانہ چلانا پڑی جو ۲۸/ دسمبر تک جاری رہی۔اس دفعہ نہ صرف بہت سی عورتیں بچے اور بہت سے ضعیف اور کمزور لوگ شامل جلسہ ہوئے جو پہلے نہ آسکے تھے۔بلکہ بہت سے غیر مبائع ، غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب بھی دور در از متقامات سے تشریف لائے۔ضعیف العمر لوگوں میں سے چنگا بنگیال ضلع جہلم کی ایک خاتون بھی تھیں جن کی عمر سو