تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 97
تاریخ احمدیت ، جلد ۵ 93 کے لئے دعائیں کرتے رہتے تھے۔چنانچہ جون ۱۹۲۴ ء میں حضور نے ان کے فرزند مرزا رشید احمد صاحب کا خطبہ نکاح پڑھا تو ایجاب و قبول کے بعد ارشاد فرمایا: TAK - ان کے خاندان میں اب ایک ہی وجود ایسا ہے جس نے ابھی تک اس ہدایت کو قبول نہیں کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے ان کے لئے بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔۔۔۔۔جب سے میں نے ہوش سنبھالی ہے میں برابر ان کے لئے دعا کر تا رہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہدایت دے میں سنتا رہتا ہوں کہ وہ احمدیت کو ہدایت کی راہ ہی خیال کرتے ہیں مگر کوئی روک ہے جس کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس روک کو ہٹا دے۔آمین "۔الحمد للہ خدا کے خلیفہ برحق کی دعا درگاہ عالی میں مقبول ہوئی اور آخر اکتو بر ۱۹۲۸ء کے پہلے ہفتہ میں حضرت مرزا سلطان احمد نے اعلان احمدیت کر دیا اور اس سلسلے میں مندرجہ ذیل بیان الفضل میں شائع کرایا۔تمام احباب کی اطلاع کے لئے میں یہ چند سطور شائع کرتا ہوں کہ میں حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے سب دعوؤں پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے دعویٰ میں صادق اور راستباز تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور تھے جیسا کہ میرے ان مضامین سے آپ لوگوں پر ظاہر ہو چکا ہو گا۔جو سلسلہ احمدیہ کی خدمات کے متعلق میں شائع کرتا رہا ہوں مگر اس وقت تک بوجہ بیماری اور ضعف کے میں ان مسائل کے متعلق پورا غور نہیں کر سکا۔جن کے بارے میں قادیان اور لاہوری احمدیوں میں اختلاف ہے اور اسی وجہ سے اب تک اپنی احمدیت کا اعلان نہیں کر سکا۔مگر اب میں نے سوچا ہے کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اس لئے میں اس امر کا سردست اعلان کر دوں کہ میں دل سے احمدی ہوں جب مجھے اللہ توفیق دے گا تو میں اختلافی مسائل پر غور کر کے اس امر کا بھی فیصلہ کر سکوں گا۔کہ میں دونوں جماعتوں میں سے کس کو حق پر سمجھتا ہوں۔پس سر دست اپنے احمدی ہونے کا اعلان ان چند سطور کے ذریعہ سے کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے دو سرے سوال کے متعلق بھی اپنے پاس سے ہدایت فرمائے او روہ راہ دکھائے جو اس کے نزدیک درست ہو۔آمین۔FAT (خان بهادر ) مرز اسلطان احمد ( خلف اکبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام) اس اعلان کے علاوہ آپ نے ایک ٹریکٹ "الصلح خیر" نامی شائع کیا جس میں تحریر فرمایا : " میری عقیدت حضرت مسیح موعود کے ساتھ نہ صرف اس وقت سے ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کا دعویٰ کیا بلکہ ان ایام سے میں عقیدت رکھتا ہوں کہ جبکہ میری عمر بارہ تیرہ برس کی تھی۔میں تصدیق کرتا ہوں اور صدق دل سے مانتا ہوں کہ میرے والد صاحب مرحوم کی