تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 96
تاریخ احمدیت جلد ۵ 92 خلافت مانسیه کانند سر گاؤں اور اسٹیشن پر بلند ہوتے آئے اگر چہ گاڑی امرتسری سے بالکل پر ہو گئی تھی اور ہر ایک درجہ میں بہت کثرت سے آدمی بیٹھے تھے۔لیکن بٹالہ اسٹیشن پر تو ایسا اثر دحام ہو گیا تھا کہ بہت لوگ گاڑی میں بیٹھ نہ سکے اور بہت سے بمشکل پائدانوں پر کھڑے ہو سکے۔کچھ قادیان سے پہلے اسٹیشن و ڈالہ گر نتھیاں پر بھی جہاں ارد گرد کے بہت سے احمدی مرد و عورتیں جمع تھیں چند ہی اصحاب بدقت بیٹھ سکے۔آخر گاڑی اپنے وقت پر 4 بجے شام کو قادیان کے پلیٹ فارم پر پہنچی یہاں بھی قرب و جوار کے بہت سے دوستوں کا ہجوم تھا سٹیشن جھنڈیوں اور گملوں سے خوب آراستہ تھا۔فضا بہت دیر تک اللہ اکبر اور "غلام احمد کی جے" کے پر جوش نعروں سے خوب گو نجتی رہی۔کچھ عجیب ہی شان نظر آرہی تھی۔گذشتہ سال انہی ایام میں کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اس مقام پر اتنی رونق اور ایسی چہل پہل ہو سکتی ہے لیکن اللہ تعالی نے قلیل ہی عرصہ میں ایسے سامان پیدا کر دیے کہ بالکل نیا نقشہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔فالحمد لله على ذالك۔اس سفر میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اور حضور کے اہل بیت کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے کئی نونہال بھی اس گاڑی میں تشریف لائے تھے۔اور حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب ، حضرت مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، حضرت مولانا مولوی شیر علی صاحب ، حضرت عرفانی کبیر شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم، حضرت مولوی میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر "فاروق" حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب ناظر بیت المال، حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور کئی اور مقامی بزرگوں کو بھی اس گاڑی میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔|TA='PLA| حضرت مرز اسلطان احمد صاحب کا اعلان احمدیت اس سال کے اہم واقعات میں سے حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کا اعلان احمدیت ہے۔جیسا کہ متعدد واقعات و شواہد سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچتا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو دراصل شروع ہی سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ساتھ بے حد عقیدت و شیفتگی تھی اور آپ حضرت اقدس علیہ السلام کو بے مثال عاشق رسول اللہ ا سمجھتے اور آپ کے دعادی کو برحق تسلیم کرتے تھے۔اور آپ کی روح تحریک احمدیت کو قبول کر چکی تھی مگر آپ کو اس کے اظہار و اعلان میں بہت تامل تھا اور اس بات کا علم حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو بھی تھا۔اور حضور ہمیشہ ان کے حلقہ بگوش احمدیت ہونے