تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 95
تاریخ احمدیت جلد ۵ 91 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں کے علاوہ گوجرانوالہ ، لاہور امرت سر اور بعض دور دراز مقامات کے احباب بھی آگئے اور گاڑی روانہ ہونے سے قبل قادیان جانے والوں کی اتنی کثرت ہو گئی کہ ریلوے والوں کو پہلی تجویز کردہ گاڑیوں میں اور ڈبوں کا اضافہ کرنا پڑا۔گاڑی کے پاس ہی اذان کئی گئی اور حضور نے ظہر و عصر کی نمازیں ایک بہت بڑے مجمع کو باجماعت " پڑھا ئیں اس کے بعد حضور نے احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔پھر حضور گاڑی کے دروازہ میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا دوست دعا کریں کہ اللہ تعالی ریل کا قادیان میں آنا مبارک کرے۔یہ کہہ کر حضور نے مجمع سمیت چند منٹ تک نہایت توجہ اور الحاج سے دعا کرائی اور پھر سب احباب گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب نے ریل گاڑی کے جاری ہونے سے متعلق چار صفحہ کا ایک بہت عمدہ اور موثر ٹریکٹ تیار کر کے گاڑی چلنے کے موقعہ پر تقسیم کر دیا۔جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود کے اوائل زمانہ کی مشکلات کا نقشہ کھینچتے ہوئے ثابت کیا کہ ریل کا کسی حصہ ملک میں جاری ہو جانا معمولی بات ہے مگر قادیان کی ریل خاص تائید الہی میں سے ہے اور اس کی تقدیر خاص کے ماتحت تیار ہوئی ہے اور ان عظیم الشان نشانوں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ انبیاء کی تائید کے لئے ظاہر فرماتا ہے۔LL حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے رونق افروز ہونے کے بعد جتنی دیر تک گاڑی اسٹیشن پر کھڑی رہی۔مدرسہ احمدیہ کے سکاؤٹس نہایت خوش الحانی سے اردو اور پنجابی نظمیں پڑھتے رہے اور انہوں نے چند آیات و الہامات سے جو سرخ رنگ کے کپڑوں پر چسپاں تھیں گاڑی بھی خوب سجائی اور جاذب نظر بنائی تھی۔ان میں سے بعض درج ذیل ہیں: الا ان روح الله قريب الا ان نصر الله قريب ياتون من كل فج عميق ياتيك من كل فج عميق (۲) واذا العشار عطلت واذا النفوس زوجت (۳) دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔(۴) اهلا و سهلا و مرحبا (۵) خوش آمدید (۱) غلام احمد کی ہے۔(۷) یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعویٰ پر مہر الہ ہے گاڑی نے اپنے مقررہ وقت ۳ بج کر ۴۲ منٹ پر حرکت کی اور ساتھ ہی اللہ اکبر کا نہایت بلند اور پر زور نعرہ بلند ہوا جو گاڑی کے ریلوے یارڈ سے نکلنے تک برابر بلند ہوتا رہا۔گاڑی دیکھنے کے لئے آدمیوں کے گذرنے کے پل پر بڑا ہجوم تھا۔اللہ اکبر اور غلام احمد کی جے " کے نعرے راستہ کے ہر