تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 92 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 92

تاریخ احمدیت جلد ۵ 88 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال بھی دی گئی۔اور جو اراضی اس کے لئے مختلف مالکوں سے خریدی گئی تھیں وہ اخیر میں نیلام عام کے ذریعہ فروخت کر دی گئی۔ان حالات سے ظاہر ہے کہ یہ لائن خالص خدائی تصرف کے تحت محض قادیان کے لئے تیار ہوئی۔منشی محمد دین صاحب سابق مختار عام ( والد ماجد شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ) کا بیان ہے کہ جب ریلوے لائن بچھ گئی۔تو متعلقہ یورپین ریلوے افسر کی پر تکلف دعوت حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کو ٹھی میں کی گئی۔سروے کا عملہ بھی شامل تھا۔اور جماعت کے کئی معززین بھی شامل تھے۔اس موقعہ پر اس یورپین افسر نے یہ بات ظاہر کی کہ میرے اندر کوئی ایسی طاقت پیدا ہو گئی تھی جو مجھے چین نہیں لینے دیتی تھی۔اور یہی تحریک ہوتی تھی کہ جلد لائن مکمل ہو۔بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ سلسلہ کے مفاد قادیان کی ترقی اور بہشتی مقبرہ کی حفاظت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ لائن قادیان کے شمال کی طرف سے ہو کر گزرے مگر ریلوے حکام اور علاقہ کی غیر احمدی اور غیر مسلم آبادی اسے جنوب سے گزارے جانے کے لئے انتہائی جوش اور پوری سرگرمی سے کوشش کر رہی تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی فراست و بصیرت سے اس صورت حال کو پہلے سے معلوم کر لیا اور اس کی روک تھام کے لئے ابتدا ہی میں خاص انتظام سے ایک زبر دست مہم شروع کرادی یہ مہم کیا تھی اس میں کن بزرگوں نے حصہ لیا۔اور کس طرح کامیابی ہوئی اس کی تفصیل شیخ محمد دین صاحب سابق مختار عام کے بیان کے مطابق درج ذیل ہے فرماتے ہیں: غالبا ۱۹۲۸ء کی ابتداء یا ۱۹۲۷ء کے آخر کا واقعہ ہے کہ کسی اخبار میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے ایک سرکاری اعلان پڑھا جس میں اس قسم کا کوئی ذکر تھا کہ ریلوے امرت سمر سے بیاس تک مائی جائے اس حضور نے فورا مولوی عبد المغنی خان صاحب کو ناظر خاص مقرر فرمایا، حکام سے رابطہ کے لئے حضرت مفتی محمد صادق صاحب جو اس وقت ناظر امور خارجہ تھے مقرر کئے گئے۔میں اور منشی امام الدین صاحب (والد ماجد چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صد را انجمن احمدیہ ) ان دونوں بزرگوں کے لئے بطور معاون تجویز ہوئے۔ہماری تجویز یہ تھی کہ یہ ریلوے بٹالہ کے شمال کی طرف سے آئے اور قادیان کے شمالی جانب سے ہوتی ہوئی سری گوبند پور پہنچے۔مگر محکمہ ریلوے اور علاقہ کے غیر مسلموں اور دوسرے مخالفین کی تجویز یہ تھی کہ ریل بٹالہ کے جنوب سے ہوتی ہوئی قادیان کے جنوب مقبرہ بہشتی کی طرف جائے وہاں سے سری گوبند پور سے ہوتی ہوئی بیاس تک پہنچائی جائے۔ہماری طرف سے حکام کو بتایا گیا کہ بٹالہ کے جنوب کی اراضیات زیادہ زرخیز اور قیمتی ہیں اور شمالی جانب کی اراضیات کم