تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 93
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 89 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سا قیمت کی ہیں۔چنانچہ ریلوے نے ہماری یہ تجویز مان لی۔اور سمردے شروع ہو گیا۔ریلوے نے اس ٹکڑہ پر ریلوے لائن بچھانے کے لئے ایک یورپین افسر مقرر کیا تھا جو بہت ہو شیار نوجوان تھا۔سروے کرنے والا سارا عملہ مسلمان تھا اور اس عملہ کے افسر معراج دین صاحب اوور سیر تھے۔میری یہ ڈیوٹی تھی کہ میں اس عملہ کے ساتھ دن رات رہوں اور جماعتی مفاد کے مطابق اوور سیر معراج دین صاحب کو بتاؤں کہ ریلوے لائن بٹالہ کے شمال سے ہوتی ہوئی اس اس طریق سے آئے۔چنانچہ جب سروے لائن نہر قتلے والی کے قریب پہنچ گئی تو مخالف عصر نے جس میں قادیان کے مسلمان اور سکھ وغیرہ بھی شامل تھے پھر زور لگایا کہ ریلوے لائن قادیان کی جنوبی جانب سے پہنچے اس مرحلہ پر یورپین افسر نے حکم دیا کہ سروے کر کے معلوم کیا جائے کہ شمالی اور جنوبی جانب سے خرچ میں کس قدر تفاوت ہو گا۔بظا ہر حالات شمالی جانب خرچ قریب لا کھ ڈیڑھ لاکھ زیادہ تھا۔مگر ریلوے اوور سیر نے جب شمالی اور جنوبی جانب کا خرچ پیش کیا تو معلوم ہوا کہ دونوں میں فرق خفیف سا ہے (جس کی ایک وجہ غالبا یہ تھی کہ قادیان کی جنوبی جانب پست تھی اور سیلاب کا پانی وہاں جمع رہتا تھا۔جس سے بچاؤ کے لئے بھرتی ڈال کر لائن بچھانے کے اخراجات بھی اس میں شامل کرنے پڑتے تھے۔مولف) بنا بریں یورپین افسر نے ریلوے کے افسران بالا سے بھی یہی منظوری لے لی کہ لائن قادیان کے شمال ہی کی طرف سے گزاری جائے۔چنانچہ لائن قادیان کے شمالی جانب سے تعمیر کی گئی۔بلکہ اسی خسرہ نمبر سے آئی اور اسی مجوزہ جگہ پر اسٹیشن بنا جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب پہلے سے تجویز فرما چکے تھے۔المختصر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی یہ بات پوری ہوئی کہ قادیان میں لائن نواں پنڈ اور بسراواں کی طرف سے ہو کر پہنچے گی اور اس طرح قادیان میں گاڑی کا آنا سلسلہ احمدیہ کی صداقت کا ایک چمکتا ہوا نشان بن گیا۔اور قادیان کے ریلوے نظام سے وابستہ ہونے کے بعد سلسلہ کی ترقی کا میدان وسیع سے وسیع تر ہو تا گیا۔فالحمد لله على ذلك۔مسلم حکومتوں کو انتباہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۶/ نومبر ۱۹۲۸ء کو ایک اہم خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔جس میں مسلمان حکومتوں کو ان کی دین سے بے اعتنائی پر انتباہ کیا اور بتایا کہ ترک یورپین اثر سے آزاد ہوئے تو ہر مسلمان کو اس پر خوشی تھی۔مگر تھوڑے ہی دنوں بعد انہوں نے آہستہ آہستہ مذہب اور حکومت کے تعلق کو تو ڑنا شروع کیا۔پھر عربی حروف چھوڑ کر ترکی الفاظ کو انگریزی الفاظ میں لکھنا شروع کیا۔جس کا نتیجہ یہی ہو گا۔کہ جس آسانی سے وہ پہلے قرآن شریف پڑھ سکتے تھے اب نہیں پڑھ سکیں گے۔اور اسلام سے تعلق کم ہو تا جائے گا۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کی یہ حرکت محض نقل سے زیادہ کچھ نہیں اب یہ مرض دو سرے ممالک میں