تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 87 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 87

یخ احمدیت جلد شا 83 چر چاہندوستان کے گوشہ گوشہ میں ہوا اور بعد میں مسٹر محمد علی جناح نے بھی اپنے چودہ نکات اسی قرار داد کے اصول پر مرتب کئے "۔اسی طرح محمد مرزاد بلوی مسلم لیگ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں: مسلم کانفرنس کے اس اجلاس کے بعد مارچ ۱۹۲۹ء میں مسلمانوں کے مطالبات کو منظم صورت میں حکومت اور کانگریس کے آگے پیش کرنے کے لئے دہلی میں مسلم لیگ کا اجلاس ہوا۔۔۔اس اجلاس میں جناب محمد علی جناح نے نہرو رپورٹ پر نہایت سخت تنقید کی اور اسے مسلم تجاویز دہلی کے مقابلہ میں ہندو تجاویز سے تعبیر کیا۔اس کے ساتھ مسلمانوں کے بنیادی حقوق پر بڑی تفصیل اور جامعیت سے روشنی ڈالی اور مستقبل کے ہندوستان میں مسلم انفرادیت کے تحفظ کے لئے ایک طویل تجویز میں وہ مشہور چودہ نکات پیش کئے جو آج تک مسلمانوں کے قومی مطالبات سمجھے جاتے ہیں “۔۲۵۴ اس کانفرنس میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی دو تقریر میں ہو ئیں ایک سبجیکٹ کمیٹی میں اور دوسری کھلے اجلاس میں۔آپ نے اپنی تقریروں میں واضح کیا کہ کس طرح نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کے حقوق تلف کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس سلسلہ میں آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے تبصرہ رپورٹ کا تذکرہ بھی کیا۔جس میں رپورٹ کی خامیوں پر مدلل بحث تھی۔آپ نے مولانا شوکت علی کے ایک ریزولیوشن کی تائید کرتے ہوئے فرمایا۔مسلمانوں کو خصوصیت سے علم حاصل کرنے کی طرف توجہ کرنا چاہئے۔مسئلہ گاؤ کشی کے ذکر پر آپ نے بتایا کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام نے سب سے پہلے اس بات کو ہندوؤں کے سامنے پیش کیا تھا کہ اگر ہندو اس وجہ سے ناراض ہیں کہ مسلمان گائے کا گوشت کھاتے ہیں تو ہم ان کی خاطر ایک جائز اور حلال چیز کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ وہ بھی ہماری خاطر ایک چھوٹی سی قربانی کریں اور وہ یہ ہے کہ پاکوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آپ کے خلاف بد زبانی سے باز آجا ئیں۔کانفرنس کے تمام ممبروں نے اس تجویز سے اتفاق کیا اس موقعہ پر اکثر مسلم زعماء حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بروقت سیاسی رہنمائی ، جماعت احمدیہ کی زبر دست تنظیم اور اس کے عظیم الشان کارناموں کے مداح پائے گئے۔١٢٥٥- بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ کانفرنس مسلمانان ہند کی سیاست میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے چنانچہ جناب عبد المجید صاحب سالک نے اس کے ملک گیر اثر و نفوذ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے اب سار ا مسلم پریس ، تمام مسلم ادارات اور جماعتیں ان مطالبات کی حمایت کر رہی تھیں۔جو