تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 86
i تاریخ احمدیت جلد ۵ 82 خلافت ثانیہ کا پندر مسلمانوں کی تمام مشہور نہ ہبی وسیاسی جماعتوں کے نمائندے دہلی میں جمع ہوئے اور ۳۱ / دسمبر ۱۹۲۸ء سے ۲/ جنوری ۱۹۲۹ء تک آل انڈیا مسلم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔یہ کانفرنس جو سر آغا خاں کی صدارت میں شروع ہوئی مسلمانان ہند کی اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی جس میں کونسلوں اسمبلی اور کونسل آف اسٹیٹ کے علاوہ مسلم لیگ ، خلافت کمیٹی اور جمعیتہ العلماء ہند کے نمائندے اور سر بر آوردہ ارکان بھی شامل تھے۔سر شفیع کے الفاظ میں یہ کانفرنس مسلمانان ہند کی پوری نمائندہ تھی۔اور برصغیر پاک وہند کے صحافی جناب عبد المجید صاحب سالک کا 120 جو اس کا نفرنس میں موجود تھے بیان ہے کہ : میں اس کا نفرنس کو ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں بے نظیر سمجھتا ہوں۔مسلمانوں کی جس قدر زیادہ نمائندگی اس کانفرنس میں مہیا ہوئی اتنی اور کسی اجتماع میں دکھائی نہیں دی یہاں تک کہ اس کانفرنس میں میں قادیانی ممبر بھی شامل کر لئے گئے تھے تاکہ اس جماعت کو بھی نقصان نیابت کی شکایت نہ ہو " - Ro سے ہے جیسا کہ سالک صاحب نے اشارہ کیا ہے متعد د احمدی مختلف صوبوں سے منتخب ہو کر کانفرنس میں شامل ہوئے تھے۔مثلا بنگال سے جناب حکیم ابو طاہر محمود احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ کلکتہ بہار سے جناب حکیم خلیل احمد صاحب مو نگھیری، پنجاب سے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب دہلی نے بابو عباز حسین صاحب پریذیڈنٹ انجمن احمد یہ دہلی اور مرکز کی طرف سے حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب۔کانفرنس کے آغاز میں سر شفیع نے ایک پر جوش تقریر کے ساتھ کانفرنس کا اصل ریزولیوشن پیش کیا جو اکثرو بیشتر ان خطوط پر مرتب کیا گیا تھا جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے نہرو رپورٹ کے تبصرہ میں تجویز فرمائے تھے۔اس قرارداد کی تائید میں مسٹراے کے غزنوی ، مولوی شفیع داؤدی ، ڈاکٹر سر محمد اقبال ، مسٹر شرف الدینی۔اما حافظ ہدایت حسین کا پور ، مولوی محمد یعقوب صاحب ڈپٹی پریذیڈنٹ اسمبلی دہلی۔مسٹر عبد العزیز پشاوری، ڈاکٹر شفاعت احمد خاں، داؤد صالح بھائی، حاجی عبداللہ ہارون، مونوی عبد الماجد بدایونی، مولوی کفایت اللہ مولوی آزاد سبحانی اور مولانا محمد علی صاحب جو ہر نے بالترتیب تقریریں کیں اور یہ قرار داد پر زور تائید سے منظور ہوئی۔یہی وہ اہم قرار داد تھی جس پر آئندہ چل کر مسٹر محمد علی جناح نے اپنے مشہور چودہ نکات تجویز کئے۔چنانچہ جناب عبد المجید صاحب سالک اپنی کتاب "ذکر اقبال " میں لکھتے ہیں: اس کانفرنس میں مسلمانوں کے تمام سیاسی مطالبات کے متعلق ایک قرار داد منظور ہوئی جس کا