تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 79
تاریخ احمدیت جلده 75 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال کے امام کے دیئے ہوئے ہیں میں تو ان کا ایک خادم ہوں۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ جلپا گوری میں میری مولوی تمیز الدین صاحب سے ملاقات ہوئی اور غالبا وہاں انہوں نے ہی میرے لیکچر کا انتظام کیا۔مجھے ابھی تک ان کی مشترکہ انتخاب کے خلاف اور ہندوؤں کے خلاف شدید غضب کا احساس ہے جس شدت سے میں نے مشترکہ انتخاب کی مخالفت اور جداگانہ انتخاب کی تائید کی اس سے کہیں زیادہ اس بارے میں مولوی تمیز الدین صاحب متشدد تھے۔انہوں نے میرے سامنے ہندوؤں کو گالیاں بھی دیں۔اور کہا کہ یہ مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں مجھے اس وقت سے یہ احساس ہے کہ مولوی صاحب ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف چالوں کو خوب جانتے تھے۔اور ان کے سخت دشمن تھے اور ہندوؤں کی نظر میں بھی وہ ایک کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔ٹاٹا نگر میں میں نے ایک بڑے ہندوؤں اور مسلمانوں کے اجتماع میں جس میں ہندوؤں کی بہت زیادہ کثرت تھی اسلام کے صلح کل مذہب ہونے پر تقریر کی۔اس تقریر کے صدر بہار کے ایک بہت بڑے کا نگریسی لیڈر تھے جن کا نام اس وقت پورا تو مجھے یاد نہیں۔لیکن ان کے نام کا ایک حصہ کنٹھ تھا۔میری اس تقریر کو بہت پسند کیا گیا اور مسٹر کنٹھ نے تو بڑے تعجب اور بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ اسلام اس محبت صلح اور آشتی کے پیغام کو لے کر دنیا میں آیا ہے۔سب بڑے بڑے شہروں میں میں نے تقریریں کیں اور میری ان تقاریر کی رپورٹیں کلکتہ کے اخبارات انگلش مین (English Man) اور سٹیٹسمین (Statesman) میں چھپتی رہیں۔سٹیٹسمین (Statesman) ان دنوں کلکتہ سے نکلتا تھا۔میں ان رپورٹوں کی نقول حضرت صاحب کو بھجواتا رہا۔جب میں واپس قادیان پہنچا تو حضرت صاحب میرے اس دورہ سے بہت خوش تھے۔جب میں نے اپنی رپورٹ عرض کرنی چاہی تو آپ نے بہت خوشی سے فرمایا۔کہ ہمیں آپ کی تقریروں کی سب رپورٹیں Tri پہنچ چکی ہیں "۔in ہیں" الغرض یہ دورہ بہت کامیاب رہا اور مسلمانان بنگال بھی نہرو رپورٹ کی نقصان دہ سکیم سے واقف ہو کر اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔آل مسلم کانفرنس پٹنہ کی طرف سے حضرت نہرو رپورٹ پر غور کرنے کے لئے مولانا محمد علی صاحب جو ہر کی زیر صدارت پہلی آل مسلم خلیفتہ المسیح الثانی کے مطالبات کی تائید کانفرنس پٹنہ میں منعقد ہوئی کانفرنس میں اگر چہ نمائندہ کان کی ایک بڑی تعداد کسی صورت میں بھی مخلوط انتخاب کو منظور کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔لیکن کثرت آراء کی تائید سے مخلوط انتخاب کو شرائط کے ماتحت منظور کر لینے کی قرار داد پاس کی گئی۔آں مسلم کانفرنس نے مسلمانوں کی طرف سے مخلوط انتخابات تسلیم کرنے کے لئے جو آٹھ مطالبات پیش