تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 47 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 47

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 39 حضرت خدین اسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت انٹرنس دونوں امتحانوں میں فیل ہو گئے تا دنیا پر یہ کھل جائے کہ آپ کا معلم حقیقی تو عرش کا خدا ہے۔چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں۔دنیوی لحاظ سے میں پرائمری لیل ہوں مگر چونکہ گھر کا مدرسہ تھا اس لئے اوپر کی کلاسوں میں مجھے ترقی دے دی جاتی تھی۔پھر مڈل میں فیل ہوا۔مگر گھر کا مدرسہ ہونے کی وجہ سے پھر مجھے ترقی دے دی گئی۔آخر میٹرک کے امتحان کا وقت آیا تو میری ساری پڑھائی کی حقیقت کھل گئی اور میں صرف عربی اور اردو میں پاس ہوا۔اور اس کے بعد پڑھائی چھوڑ دی۔گویا میری تعلیم کچھ بھی نہیں۔مگر آج تک ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے میرے سامنے قرآن کریم کے خلاف کوئی اعتراض کیا ہو۔اور پھر اسے شرمندگی نہ ہوئی ہو۔بلکہ اسے ضرور شرمندہ ہونا پڑا ہے اور اب بھی میرا دعوی ہے کہ خواہ کوئی کتنا بڑا عالم ہو وہ اگر قرآن کریم کے خلاف میرے سامنے کوئی اعتراض کرے گا تو اسے ضرور شکست کھانی پڑے گی اور وہ شرمندہ اور لاجواب ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا"۔پھر فرماتے ہیں۔اگر کچھ پاس کر لیتا تو ممکن ہے مجھے خیال ہو تاکہ میں یہ ہوں۔وہ ہوں۔لیکن اب تو اس حقیقت کا انکار نہیں ہو سکتا کہ جو مجھے آتا ہے یہ اللہ کا ہی فضل ہے میری اس میں کوئی خوبی نہیں۔کچھ عرصہ ہوا لا ہور میں دو مولوی صاحبان مجھ سے ملنے آئے اور بطور تمسخر ایک نے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کہاں تک ہے میں سمجھ گیا کہ ان کا مقصد کیا ہے میں نے کہا کچھ بھی نہیں۔کہنے لگے آخر کچھ تو ہو گی۔" میں نے کہا صرف قرآن جانتا ہوں۔کہنے لگے بس قرآن مجھے ان پر تعجب کہ ان کے نزدیک قرآن جانا کوئی چیز ہی نہیں اور انہیں اس پر خوشی کہ ان کی تعلیم کچھ نہیں "۔۱۸۹۷ء میں جبکہ آپ کی عمر آٹھ نو سال کی تھی۔قادیان کے احمدی انجمن ہمدردان اسلام نوجوانوں کی انجمن قائم ہوئی جس کے سرپرست (حضرت خلیفتہ المسیح اول) مولانا مولوی نور الدین تھے اول اول اس کے اجلاس پرانے اور قدیم مہمان خانے میں ہوا کرتے تھے۔اور اس وقت زیادہ سے زیادہ چھ سات ممبر تھے جن میں ایک سرگرم ممبر آپ بھی تھے۔حضرت بھائی عبد الرحمن قادیانی تحریر فرماتے ہیں۔شہید الاذہان کا پہلا اور ابتدائی نام انجمن ہمدردان اسلام تھا۔جو بالکل ابتدائی ایام اور پرانے زمانہ کی یاد گار ہے۔جبکہ سیدنا محمود بمشکل آٹھ نو برس کے تھے آپ کے دینی شعف اور روحانی ارتقاء کی یہ پہلی سیڑھی تھی۔جو حقیقتاً آپ ہی کی تحریک خواہش اور آرزو پر قائم ہوئی تھی۔کھیل کو د اور بچپنے کے دوسرے اشغال میں انہماک کے باوجود آپ کے دل میں خدمت اسلام کا ایسا جوش اور جذبہ نظر