تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 46 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 46

تاریخ احمدیت جلد ۴ 38 سید تا کو ی حضرت خدیقه لمسیح الثانی کے سواتی قبل از خار است انہوں نے بڑی کوشش کی کہ پتہ لگا ئیں کہ میں نے کیا لکھا ہے مگر انہیں کچھ پتہ نہ چلا۔میرے بچوں میں سے اکثر کے خط مجھ سے اچھے ہیں۔ان (حضرت میر ناصر نواب صاحب کی طبیعت بڑی تیز تھی۔غصہ میں فورا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچے۔میں بھی اتفاقا اس وقت گھر میں ہی تھا۔ہم تو پہلے ہی ان کی طبیعت سے ڈرا کرتے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر پہنچے تو اور بھی ڈر پیدا ہوا کہ اب نہ معلوم کیا ہو۔خیر میر صاحب گئے اور حضرت صاحب سے کہنے لگے کہ محمود کی تعلیم کی طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں۔میں نے اس کا اردو کا امتحان لیا تھا۔آپ ذرا اپرچہ تو دیکھیں اس کا اتنا برا خط ہے کہ کوئی بھی یہ خط نہیں پڑھ سکتا۔پھر اسی جوش کی حالت میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے آپ بالکل پروا نہیں کرتے اور لڑکے کی عمر برباد ہو رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب میر صاحب کو اس طرح جوش کی حالت میں دیکھا تو فرمایا۔بلاؤ حضرت مولوی صاحب کو۔جب آپ کو کوئی مشکل پیش آتی تو ہمیشہ حضرت خلیفہ اول ان کو بلا لیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول اس کو مجھ سے بڑی محبت تھی۔آپ تشریف لائے اور حسب معمول سر نیچے ڈال کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔مولوی صاحب میں نے آپ کو اس غرض کے لئے بلایا ہے کہ میر صاحب میرے پاس آئے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ محمود کا لکھا ہوا بالکل پڑھا نہیں جاتا۔میرا جی چاہتا ہے کہ اس کا امتحان لیا جائے۔یہ کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم اٹھائی اور دو تین سطر میں ایک عبارت لکھ کر مجھے دی اور فرمایا اس کو نقل کرو۔بس یہ امتحان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لیا۔میں نے بڑی احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر اس کو نقل کر دیا۔اول تو وہ عبارت کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی دوسرے میں نے صرف نقل کرنا تھا اور نقل کرنے میں تو اور بھی آسانی ہوتی ہے کیونکہ اصل چیز سامنے ہوتی ہے۔اور پھر میں نے آہستہ آہستہ نقل کیا۔الف اور باوغیرہ احتیاط سے ڈالے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو دیکھا تو فرمانے لگے۔مجھے تو میر صاحب کی بات سے بڑا فکر پیدا ہو گیا تھا۔مگر اس کا خط تو میرے خط کے ساتھ ملتا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اول پہلے ہی میری تائید میں ادھار کھائے بیٹھے تھے۔فرمانے لگے۔حضور میر صاحب کو تو یونہی جوش آگیا۔ورنہ اس کا خط تو بڑا اچھا ہے "۔مدرسہ کے امتحانات میں ناکامی اور اس کی حکمت یہ وہ حالات تھے جن میں آپ کو زمانہ تعلیم میں گزرنا پڑا۔صرف اس وجہ سے آپ اگلی جماعت میں بٹھادئے جاتے تھے کہ حضرت مسیح موعود کے فرزند ارجمند تھے۔مگر چونکہ سرکاری امتحانوں میں یہ عقیدت مندی قائم نہیں رہ سکتی تھی۔اس لئے آپ مڈل اور