تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 48 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 48

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 40 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت آیا کرتا تھا۔جس کی نظیر بڑے بوڑھوں میں بھی شاذ ہی ہوتی آپ کی ہر ادا میں اس کا جلوہ اور ہر حرکت میں اس کا رنگ غالب و نمایاں ہے جسے آپ کی کھیلوں کے دیکھنے اور مشاغل کو جانچنے کا اکثر موقعہ ملتا تھا۔گھنٹوں آپ مطلب میں تشریف لا کر ہم میں بیٹھا کرتے کبھی ٹیمیں بنا کرتیں اور کھیلوں کے مقابلوں کی تجاویز ہو ا کر تیں کبھی فوجیں بنا کر مصنوعی جنگوں کا انتظام ہوتا۔کبھی ڈاکو اور چوروں کا تعاقب ہو تا ان کی گرفتاری کے سامان ہوتے اور مقدمات سن کر فیصلے کئے جاتے سزائیں دی جاتیں اور کار ہائے نمایاں کرنے والوں کو انعام و اکرام ملتے تو کبھی بحث مباحثات اور علمی مقابلوں کا رنگ جما کر تا گرماگرم بحث ہوتی۔حجز مقرر ہوتے اور فاتح و مفتوح کا فیصلہ ہوتا۔الغرض ایسے ہی مشاغل اور مصروفیتوں کے نتائج میں سے ایک انجمن ہمدردان اسلام کا قیام بھی ہے جو آپ کی خواہش ، مرضی اور منشاء کے ماتحت قائم کی گئی"۔" حضرت مولانا نور الدین"۔سید نافضل عمر کی ذات والا صفات کی وجہ سے ہماری طرف خاص توجہ فرماتے۔ہماری انجمن کے اکثر اجلاسوں میں شریک ہو کر ہدایات دیتے۔۔۔۔۔۔اس ہماری انجمن میں ایک مرتبہ سید نا حضرت نور الدین الله شریک تھے۔ہمارے آقائے نامدار سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نور نظر لخت جگر نے تقریر فرمائی۔تقریر کیا تھی علم و معرفت کا دریا اور روحانیت کا ایک سمندر تھا۔تقریر کے خاتمہ پر حضرت مولانا نور الدین کھڑے ہوئے۔اور آپ نے۔۔۔آپ کی تقریر کی بے حد تعریف کی۔قوت بیان اور روانی کی داد دی نکات قرآنی اور لطیف استدلال پر بڑے تپاک اور محبت سے مرحبا جزاک اللہ کہتے ہوئے دعائیں دیتے نہایت اکرام کے ساتھ گھر تک آپ کے ساتھ آکر رخصت فرمایا "۔اس انجمن کے پہلے صدر بھی مدرسہ کے ایک استاد تھے اور سیکرٹری بھی استاد (یعنی منشی خادم حسین صاحب بھیروی) لیکن جب دوبارہ انتخاب ہوا تو صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب قرار پائے - آپ کی صدارت میں انجمن کا پہلا اجلاس ۳/ مارچ ۱۸۹۹ء کو ہوا۔آپ نے اس سال حضرت مسیح حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت ۱۸۹۸ء کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔چنانچہ فرماتے ہیں۔۱۸۹۸ء میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی گو بوجہ احمدیت کی