تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 662 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 662

627 خلافت ثانیہ کا چودھو انہی دنوں حضرت خلیفتہ المسیح الور کے اسلامی مدارس کے بقا کے لئے جد و جہد اثنانی کواطلاع ملی کہ ریاست اور میں اسلامی مدارس بند کر دیئے گئے ہیں جس پر آپ کی ہدایت کے مطابق ریاست سے خط و کتابت کے ذریعہ کوشش کی گئی۔کہ اسلامی مدارس جاری رہیں۔20 جماعت احمدیہ کی کامیابیوں اور حضرت مخالفین احمدیت کی سازش اور اس کا انجام خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہر حلقہ " میں بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر بعض لوگوں نے جن سے سلسلہ کی عظمت اور آپ کی شہرت دیکھی نہیں جاتی تھی۔آپ کی زبر دست مخالفت شروع کر دی چنانچہ اس غرض کے لئے قادیان کے بعض مستری جو مشین سویاں کی دکان چلاتے تھے آلہ کار بنائے گئے۔جنہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ پر اقدام قتل کا مقدمہ دائر کرنے کے علاوہ ایک اخبار ” مباہلہ " نامی ( قادیان سے) جاری کر کے آپ کی ذات مقدس پر شرمناک حملے کئے اور اپنی دشنام طرازی اور اشتعال انگیزی سے جماعت کے خلاف ایک طوفان بے تمیزی کھڑا کر دیا۔یہ فتنہ در اصل ایک گہری سازش کا نتیجہ تھا جس کے پیچھے سلسلہ احمدیہ کے مخالف عناصر کام کر رہے تھے۔اور جنہوں نے احمدیت کو بد نام کرنے بلکہ کچلنے کے لئے پوری قوت سے ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کئے۔اس فتنہ نے جہاں دشمنان احمدیت کی گندی اور شکست خوردہ ذہنیت بالکل بے نقاب کر دی وہاں حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی یوسفی شان کا اظہار ہوا۔اور آپ نے صبر و تحمل کا ایک ایسا عدیم النظیر نمونہ دکھایا کہ ملک کا سنجیدہ اور متین طبقہ ورطہ حیرت میں پڑ گیا۔اور انہوں نے گند اچھالنے والوں کے خلاف نفرت اور بیزاری کا کھلا اظہار کیا۔مثلاً اخبار " تازیانہ "لاہور (۱۷اپریل ۱۹۳۰ء) نے لکھا۔مسلمانوں کی یہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ وہ اپنی قوتیں اپنوں کی تخریب میں ہی صرف کرتے ہیں ہم نے ایک بار مباہلہ والوں کی حمایت کی تھی لیکن آج ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اصلیت کو پبلک پر ظاہر کر کے مباہلہ والوں کی مخالفت کریں۔اخبار مباہلہ قادیان سے شائع ہوتا ہے اس اخبار میں احمدیوں کے بزرگ و محترم پیشوا کی ذات پر نہایت رکیک حملے کئے جاتے ہیں اب بتلائیے کہ یہ کہاں کی اسلامی شان ہے؟؟۔۔۔اخبار مباہلہ والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں اعتدال اور شرافت کا جزو پیدا کریں اگر وہ ایک جماعت کے ہر دلعزیز اور مقدس پیشوا پر نہایت خوفناک الفاظ میں الزامات لگا ئیں گے اور فحش نویسی سے کام لیں گے تو اگر اس پیشوا یا پیر یا ر ہنما