تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 642 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 642

احمد نت - جلد ۴ 607 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال زندگی بخشنے کے لئے آیا تھا نہ کہ ان کی جان نکالنے کے لئے غرض محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت دنیا کے احیاء میں ہے نہ اس کی موت میں پس میں اپنے نفس میں شرمندہ ہوں کہ اگر یہ دو شخص جو ایک قسم کی موت کا شکار ہوئے ہیں اور بد بختی کی مہرانہوں نے اپنے ماتھوں پر لگائی ہے اس صداقت پر اطلاع پاتے جو محمد رسول اللہ اللہ کو عطا ہوئی تھی تو کیوں گالیاں دے کر برباد ہوتے کیوں اس کے زندگی بخش جام کو پا کر ابدی زندگی نہ پاتے اور اس صداقت کا ار تک نہ پہنچنا مسلمانوں کا قصور نہیں تو اور کس کا ہے پس میں اپنے آقا سے شرمندہ ہوں کیونکہ اسلام کے خلاف موجودہ شورش در حقیقت مسلمانوں کی تبلیغی ستی کا نتیجہ ہے۔قانون ظاہری فتنہ کا علاج کرتا ہے نہ دل کا اور میرے لئے اس وقت تک خوشی نہیں جب تک کہ تمام دنیا کے دلوں سے محمد رسول اللہ ﷺ کا بغض نکل کر اس کی جگہ آپ کی محبت قائم نہ ہو جائے"۔حضرت امام جماعت احمدیہ کی مسافی ناموس رسول عربی ﷺ کی حفاظت اور پر مسلم اخبارات کا اظہار تشکر دشمنان اسلام کے فتنہ کی سرکوبی کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جو عظیم الشان جہاد کیا وہ اس دور کے اسلامی کارناموں میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔چنانچہ اخبار مشرق گورکھپور) نے حضرت امام صاحب جماعت احمدیہ کے احسانات کے عنوان پر مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا۔" جناب امام صاحب جماعت احمدیہ کے احسانات تمام مسلمانوں پر ہیں آپ ہی کی تحریک سے ور تمان " پر مقدمہ چلایا گیا۔آپ ہی کی جماعت نے رنگیلا رسول کے معاملہ کو آگے بڑھایا۔سرفروشی کی اور جیل خانہ جانے سے خوف نہیں کھایا آپ ہی کے پمفلٹ نے جناب گورنر صاحب بہادر پنجاب کو انصاف و عدل کی طرف مائل کیا۔آپ کا پمفلٹ ضبط کر لیا مگر اس کے اثرات کو زائل نہیں ہونے دیا۔اور لکھ دیا کہ اس پوسٹر کی ضبطی محض اس لئے ہے کہ اشتعال نہ بڑھے اور اس کا تدارک نہایت ہی عادلانہ فیصلہ سے کر دیا اور اس وقت ہندوستان میں جتنے فرقے مسلمانوں میں ہیں۔سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہو رہے ہیں صرف ایک احمدی جماعت ہے جو قرون اولے کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا جمعیت سے مرعوب نہیں ہے اور خاص اسلامی کام سرانجام دے رہی ہے مسلم پولیٹیکل جماعت جو لنڈن میں بنائی گئی ہے یہ مسلم لیگ کی طرح مٹ جانے والی اور تباہ ہو جانے والی چیز نہ ہوگی کہ مسلمانان ہند نے لیگ کا اثر ولایت تک بڑھایا لیکن جب ہندوستان کی نیشنل کانگریس میں لیگ جذب ہو گئی تو آنریبل سید امیر علی کو دودھ کی مکھی کی طرح الگ