تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 641
تاریخ احمد نات ، جلد ۴ 606 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال انہیں اپنا لیڈر تسلیم کرتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانا اسلام کی بہت بڑی خدمت خیال کرتے ہیں۔مقدمہ در تمان کا فیصلہ رنگیلا رسول " سے متعلق عدالتی فیصلہ اور اس کے رد عمل کا تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم دوبارہ مقدمہ درحمان کی طرف آتے ہیں۔قبل ازیں ذکر آچکا ہے کہ رسالہ " در تمان " کی ضبطی اور اس کے طابع و ناشر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے پر ہندوؤں نے حکومت انگریزی پر زور دیا کہ وہ امام جماعت احمد یہ (ایدہ اللہ تعالیٰ) پر بھی مقدمہ چلائے مگر حکومت ہندوؤں سے مرعوب نہ ہوئی۔اور چیف جسٹس نے یہ مقدمہ ایک حج کے سپرد کر دیا۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حکومت کو بذریعہ تار توجہ دلائی کہ یہ مقدمہ ایک سے زیادہ ججوں کے سامنے پیش ہونا چاہئے تا رفعہ ۱۵۳ - الف سے متعلق جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کی تحقیق ہو جائے۔یہ معقول مطالبہ حکومت نے منظور کر لیا اور چیف جسٹس صاحب جو رخصت پر جا رہے تھے بمبئی سے واپس آگئے اور مقدمہ در تمان ڈویژن بینچ کے سپرد ہو گیا۔جس نے 4 اگست ۱۹۲۷ء کو فیصلہ سنایا کہ مذہبی پیشواؤں کے خلاف بد زبانی ۱۵۳۔الف کی زد میں آتی ہے اور بانی اسلام کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا اور بنابریں ڈویژن بینچ نے ورتمان کے مضمون نگار کو ایک سال قید بامشقت اور پانچسو روپیہ جرمانہ اور ایڈیٹر کو چھ ماہ قید سخت اور اڑھائی سو روپیہ جرمانہ کی سزا دی۔مقدمہ در تمان کے فیصلہ پر حضرت مقدمہ در تمان کا فیصلہ ہوگیا اور سیر دوزخ کا خلیفتہ المسیح الثانی کے جذبات مضمون لکھنے والا اور اس کا چھاپنے والا ایک سال اور چھ ماہ کے لئے دنیا کے دوزخ میں ڈال دیا گیا۔مسلمان خوش ہو گئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو بہت سے لوگوں نے مبارکباد کے تار بھی دیئے مگر آپ نے فرمایا۔" میرا دل غمگین ہے کیونکہ میں اپنے آقا۔اپنے سردار حضرت محمد ﷺ کی ہتک عزت کی قیمت ایک سال کے جیل خانہ کو نہیں قرار دیتا۔میں ان لوگوں کی طرح جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ علی کو گالیاں دینے والے کی سزا قتل ہے ایک آدمی کی جان کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔میں ایک قوم کی تباہی کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔میں دنیا کی موت کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔بلکہ میں اگلے پچھلے سب کفار کے قتل کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔کیونکہ میرے آقا کی عزت اس سے بالا ہے کہ کسی فرد یا جماعت کا قتل اس کی قیمت قرار دیا جائے"۔" کیونکہ کیا یہ سچ نہیں کہ میرا آقا دنیا کو جلانے کے لئے آیا تھا نہ کہ مارنے کے لئے وہ لوگوں کو