تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 643
تاریخ احمدیت جلد ۴ 608 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال کر دیا۔اس اخبار نے ایک دوسری اشاعت میں لکھا: یہ واقعہ ہے اس پر کوئی پردہ نہیں ڈال سکتا کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے صرف احمدی جماعت ہی اس بات کا دعوی کر سکتی ہے کہ اس نے فتنہ ارتداد کا مقابلہ بر حیثیت اچھا کیا اور خوب کیا اور اس سے زیادہ بہتر اور صحیح طریق پر ناموس رسول کریم صلعم کی حفاظت کے لئے جہاد اکبر بھی کسی دوسری جماعت نے نہیں کیا فردا من الافراد کا ذکر نہیں۔کیونکہ حضرت خواجہ حسن نظامی اپنی ذات خاص سے کیا کچھ نہیں کرتے ہیں۔یورپ اور افریقہ اور امریکہ میں جو خدمات اسلام یہ جماعتیں کر رہی ہیں ان کا ذکر بے سود ہے ہندوستان میں بھی جو کام ہو رہا ہے اور جیسا ایثار اور ہمت بلکہ اولوالعزمی یہ لوگ دکھا رہے ہیں باعث صد ہزار ممنونیت قوم مسلمہ ہے۔حال میں صوبہ متوسط کے دارالصدر ناگپور میں اس جماعت کے ایک فرد واحد نے جو ثبوت اپنی ہمت دایثار کا دیا ہے اس کی مفصل کیفیت الفضل قادیان نے کے الاگست کو لکھی ہے ایک صاحب ایثار کی کوششیں اور ہمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ جلسہ ہوا اور بارش بہت زور و شور سے ہوتی رہی۔پانی میں سب بھیگتے رہے جن کے پاس چھتریاں تھیں۔چھتریاں اتار دیں اور ریزولیوشن پیش کئے پاس کئے تقریریں کیں اور ثابت کر دیا کہ مسلمان اپنے پیشوا اور اپنے امام جماعت کے حکم کی تعمیل میں سب کچھ کر سکتا ہے اور اس موقعہ پر قابل تحسین تمام فرقوں کے مسلمان ہیں جنہوں نے اختلاف کو چھوڑ کر خدا کے حکم پر تمسک کیا اور رہنمائے اسلام امین کامل صادق پاک باز حضرت محمد رسول اللہ کے ناموس کی حفاظت کے لئے ایک مرکز پر جمع ہو گئے اور یہی خدا کا حکم ہے قرآن پاک میں برابر اس کی تاکید مسلمانوں کو ہے کہ تفرقہ نہ پیدا کرد۔فرقہ بندی کو چھوڑ دو اور سب ایک ہو جاؤ گے تو غیر مسلم فرقے تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ہم جماعت احمدیہ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ وہ سچا کام خدمت اسلام کا انجام دے رہی ہے اور اس وقت ہندوستان میں کوئی جماعت اتنا اچھا اور ٹھوس کام نہیں کرتی کہ وہ ہر موقعہ پر مسلمانوں کو حفاظت اسلام اور بقائے اسلام کے لئے توجہ دلاتی رہتی ہو۔باوجود اختلاف عقائد کے ہمارے دل پر اس جماعت کی خدمات کا گہرا اثر ہے۔اور آج سے نہیں۔جناب مرزا غلام احمد صاحب مرحوم کے زمانہ سے اس وقت تک ہم نے کبھی اس کے خلاف کوئی حرف زبان اور قلم سے نہیں نکالا“ اخبار مشرق یکم ستمبر۷ ۱۹۲ء بحوالہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحه ۵۷-۵۸) لکھا۔اسی طرح اخبار انقلاب " لاہور نے احمدیوں کی قابل قدر خدمات اسلامی کے عنوان پر کا احمدی فرقے سے بر اعتبار عقائد ہمیں جو اختلاف ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔علاوہ بریں مطالبات اسلامی کی تکمیل کے طریقہ ہائے کار میں بھی ہمارے اور ان کے درمیان بڑی حد تک فرق