تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 640
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 605 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال پنجاب کو نسل کے تمام مسلمانوں نے (جو یقینا مسلمانان پنجاب کے نمائندے کہلانے کا جائز حق رکھتے ہیں) جبکہ یہ ضرورت محسوس کی کہ پنجاب کی طرف سے ایک مستند نمائندہ انگلستان بھیجا جانا چاہئے۔تو عالی جناب چوہدری ظفر اللہ خاں ہی کی ذات ستودہ صفات تھی جس پر ان کی نظر انتخاب پڑی چنانچہ چودھری صاحب اپنا روپیہ صرف کر کے اور اپنے قیمتی وقت اور آمدنی کو نظر انداز کر کے انگلستان تشریف لے گئے اور اس خوبی اور عمدگی سے حکومت برطانیہ اور سیاسین انگلستان کے رو برو یہ مسائل پیش کئے جس کے مداح نہ صرف مسلمانان پنجاب ہوئے بلکہ حکومت بھی کافی حد تک متاثر ہوئی یہ وہ واقعات ہیں اور وہ روشن حقائق ہیں جن سے کم از کم اخباری دنیا کا کوئی شخص کسی وقت بھی انکار نہیں کر سکتا"۔ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہندوؤں نے جب دیکھا کہ قادیان سے بلند ہو نیوالی تحریک نے مسلمانوں میں زبر دست اثر پیدا کر دیا ہے تو انہوں نے مسلمانوں کو احمدیوں کے خلاف اکسانا شروع کیا۔چنانچہ ایک ہندو اخبار نے لکھا۔" ”مرزائیوں یا احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں میں اس قدر اختلاف رائے ہے کہ مرزائی مسلمانوں کو اور مسلمان مرزائیوں کو کافر قرار دیتے ہیں ابھی کل کا ذکر ہے کہ ایک مسلمان نے مولوی کفایت اللہ صدر جمعیت علماء دہلی سے مرزائیوں کے متعلق فتویٰ طلب کیا تھا آپ نے جو فتوی دیا۔وہ جمعیت علماء کے آرگن ”الجمعیتہ " دہلی کے کالموں میں شائع ہوا ہے اس میں مولانا کفایت اللہ نے مرزائیوں کو کافر قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ زیادہ میل جول بڑہانے کو برا قرار دیا ہے مگر مرزائیوں کی چالاکی ہوشیاری اور خوش قسمتی ملاحظہ ہو جو مسلمان ان کو کافر قرار دیتے ہیں ان کے ہی لیڈر مرزائی بنے ہوئے ہیں۔اس وقت لاہور کے بد نام اخبار مسلم آؤٹ لک" کے ایڈیٹر اور پر نٹر پبلشر کے قید ہونے پر تمام ہندوستان کے مسلمان ایک غیر معمولی مگر فرضی جوش کا اظہار کر رہے ہیں اور مسلم آؤٹ لک کی پیروی کے لئے بے قرار ہوئے پھرتے ہیں اخبار مسلم آؤٹ لک کے متعلق ہمیں یہ معلوم کر کے از حد حیرت ہوئی ہے کہ اس کے ایڈیٹر مسٹر دلاور شاہ بخاری احمدی تھے اور جب ہائیکورٹ کا نوٹس ان کے نام آیا تو وہ مرزا قادیان کے پاس گئے تاکہ اپنے ڈیفنس یا طرز عمل کے متعلق اس کی رائے لیں۔مرزا نے انہیں مشورہ دیا کہ معافی مانگنے کے بجائے قید ہو جانا بہتر ہے غرضیکہ ہر پہلو سے یہ ایک احمدی تحریک ہے اور احمدیوں کی چالاکی پر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح انہوں نے تمام مسلمانوں کو اپنے آگے لگایا ہوا ہے اور تو اور جو مسلمان لیڈر انہیں کافر قرار دیتے تھے وہ بھی اس وقت