تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 639
تاریخ احمد بیت - جلد " 604 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال اور مالک نے ہر گز عدالت عالیہ کی ہتک نہیں کی بلکہ جائز نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نزدیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد جسٹس کنور دلیپ سنگھ کا فیصلہ مسترد کر کے مسلمانوں کی دلجوئی کیجائے۔انگریزی حکومت نے چاہا کہ آپ یہ مہم جاری نہ کریں۔لیکن حضور نے حکومت کو صاف صاف کہہ دیا کہ - مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ گورنمنٹ کی خاطر قوم کو قربان کردوں اس وقت قوم کی حفاظت کا سوال ہے "۔۲۲ جولائی ۱۹۴۷ء کو جلسے کاشاندار منظر اور قومی وملی اتحاد حضرت علیہ السیح الثانی کی اس آواز پر جو آپ نے قادیان سے بلند کی تھی پورا ہندوستان گونج اٹھا اور جیسا کہ آپ نے تحریک پیش کی تھی ۲۲ جولائی کو مسلمانان ہند نے ہر جگہ کامیاب جلسے کئے اور ایک متحدہ پلیٹ فارم سے نہ صرف مسلم آوٹ لک کے مالک اور مدیر کی گرفتاری پر احتجاج کیا گیا۔بلکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی سکیم کے مطابق مسلمانوں نے مشترکہ انجمنیں قائم کر کے دوکانیں کھلوائیں تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دی اور اپنے سیاسی حقوق کے لئے اپنی جدوجہد تیز تر کردی اور ایک محضر نامہ تیار کیا جس پر پانچ لاکھ مسلمانوں کے دستخط تھے۔" جماعت احمدیہ کے علماء مصنفین اور دوسرے احمد کی اپنے محبوب امام کی ہدایات کے مطابق اس تحریک کو کامیاب کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔لنڈن میں مسلم پولیٹیکل لیگ کا قیام جماعت احمدیہ کی کوششوں کا دائرہ بیرونی ممالک تک ممتد تھا۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی کوشش سے لندن میں مسلم حقوق کی تائید کے لئے ایک مسلم پولیٹیکل لیگ قائم کی گئی۔انہی دنوں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر مسلمانان پنجاب کے نمائندہ کی حیثیت سے لندن تشریف لے گئے آپ نے دار العوام اور دار الامرا کے ممبروں انڈیا آفس کے عہدیداروں سابق وائسرائے ، گورنروں، مارلیمنٹ کے کارکنوں اور پریس کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔کنی مجالس کو خطاب کیا اور مارننگ ٹائمز" "مانچسٹر گارڈین " " ڈیلی کرانیکل"۔" سنڈے ٹائمز“ وغیرہ مشہور برطانوی اخبارات میں مضمون لکھے جن کے نتیجہ میں پبلک حلقوں میں مسلمانوں کے حقوق کی نسبت اور زیادہ دلچسپی پیدا ہو گئی۔چنانچہ اخبار "دور جدید " نے چودھری صاحب کی قومی و ملی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا۔