تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 638
جلد ۴ 603 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال افسروں نے ملزمین کو گھیر لیا۔وارنٹ تیار تھے۔انہیں موٹر میں بٹھا کر سنٹر جیل کو لے گئے۔تحفظ ناموس رسول کیلئے مسلمانان ہند عدالتی فیصلہ پر مسلمانان ہند کا قومی دماغ سخت کی راہنمائی اور ملک گیر تحریک کا آغاز پریشان ہو گیا اور مسلمان اس وقت متفق طور پر یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ اب انہیں کیا اقدام کرنا چاہئے ایک فریق نے یہ علاج سوچا کہ عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔دوسرے فریق نے کہا کہ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر کی طرح دوسرے مسلمان بھی توہین عدالت کے جرم کا تکرار کریں آخر کتنے مسلمانوں کو جیل خانہ میں ڈالا جا سکے گا۔تیسرے فریق نے یہ تجویز بتائی کہ ملک میں سول نافرمانی شروع کر دی جائے۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان سب تدبیروں کو پُر زور دلائل سے بے فائدہ بلکہ مسلم مفادات کے اعتبار سے انتہائی نقصان دہ اور ضرر رسان ثابت کیا۔اور اس نازک ترین وقت میں جبکہ مسلمانوں اور اسلام کی زندگی اور موت کا سوال در پیس تھا مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور تحفظ ناموس رسول الی کے لئے ایک پر امن مگر مئوثر عملی تحریک کا آغاز کر دیا۔۲۲ جولائی سے ۱۹۲ء کے دن جلسوں کی تجویز اس سلسلہ میں حضور نے ابتدائی مرحلہ پر فوری رنگ میں یہ تجویز کی کہ "مسلم آؤٹ لک" کے مدیر و مالک کی قید کے پورے ایک ماہ بعد یعنی ۲۲ جولائی ۱۹۲۷ء کو جمعہ کے دن ہر مقام پر جلسے کئے جائیں جن میں مسلمانوں کو اقتصادی اور تمدنی آزادی سے متعلق آگاہ کیا جائے اور سب سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام جاری کریں گے۔اور ہندوؤں سے ان امور میں چھوت چھات کریں گے جن میں ہندو چھوت چھات کرتے ہیں اپنے قومی حقوقی قوانین حکومت کے ماتحت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اس دن ہر مقام پر ایک مشترکہ انجمن بنائی جائے جو مشترکہ فوائد کا کام اپنے ہاتھ میں لے۔اسی طرح تمام مسلمان حکومت سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ کی موجوہ صورت مسلمانوں کے مفاد کے خلاف اور ان کی بہتک کا موجب ہے ( پنجاب میں) پچپن فیصد آبادی والی قوم کے کل دو جج ہیں اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کم سے کم ایک مسلمان حج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے اور مقرر کیا جائے اور اسے نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ دوسرے ججوں سے اسے اس طرح سینئر کیا جائے کہ موجودہ چیف جسٹس سر شادی لال) کے بعد وہی چیف حج ہو۔حضور نے مزید فرمایا کہ ۲۲ جولائی کے جلسوں میں مسلمانوں سے دستخط لے کر محضر نامہ کی تجویز ایک محضر نامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک "مسلم آؤٹ لک " کے ایڈیٹر