تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 637
تمر نت - جلد ۴ 602 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال کو یہ حق حاصل نہیں سرکاری وکیل نے جواب میں کہا کہ اللہ آباد ہائیکورٹ اور پنجاب ہائیکورٹ کی حیثیت ایک ہی ہے اور دونوں کو یہ حق حاصل ہے غرضیکہ پُر لطف بحث ہوئی اور ساڑھے بارہ بجے عدالت نے فیصلہ کیا کہ نہیں سماعت مقدمہ کا حق حاصل ہے اگرچہ فیصلہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف ہوا تاہم ان کی قابلیت اور ان کے فاضلانہ خطاب کا ہر شخص معترف تھا اور اپنے اور بیگانے وکلاء نے بھی ان کو ان کی تیاری اور قابلانہ تقریر پر مبارک باد دی۔اس کے بعد اصل الزام زیر بحث آیا مسٹر کارڈن بیرسٹر نے سرکار کی طرف سے تقریر کی اور کہا کہ جس مضمون پر اعتراض ہے وہ ۱۴ جون کو شائع ہوا اس کا عنوان ہے "مستعفی ہو جاؤ" ایک حج سے استعفاء کا مطالبہ کرنا ہی اس کی سخت ہتک کرنا ہے دوسرے اس مضمون میں لکھا ہے کہ جن حالات میں یہ فیصلہ ہوا ہے جو غیر معمولی فیصلہ ہے ان کی تحقیقات ہونا چاہئے اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مضمون میں الزام لگایا گیا ہے کہ فاضل جج نے ایمانداری سے فیصلہ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔آپ کے بعد۔۔۔۔مسٹر ظفر اللہ نے ثابت کیا کہ کسی حج سے استعفاء کا مطالبہ کرنا اس کی ہتک کرنا نہیں ہے اس کو عدالت نے تسلیم کیا آپ نے کہا کہ ملزمین نے نہایت دلیرانہ جواب دیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والے نہیں ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد یہ نہ تھا کہ حج کی نیت پر حملہ کریں تو ہمیں ان کے بیان پر اعتماد کرنا چاہئے وہ اس امر کی تحقیقات چاہتے تھے کہ آیا اس مقدمہ میں سرکاری وکیل نے خوب بحث کی پانہ کی اور جج نے اس کو دو جوں کے سپرد کیوں نہ کر دیا اکیلے کیوں فیصلہ کیا وغیرہ وغیرہ آپ نے کہا کہ ایک فقرہ کے بھلے اور برے دو معنی ہو سکتے ہیں اس کے جو بھلے معنی ہیں عدالت ان کو اختیار کرے"۔مولوی نور الحق صاحب کی جانب سے مسٹر نیاز محمد نے کہا کہ وہ محض نا شرو طالع ہیں اور انگریزی نہیں جانتے لہذا ان کی ذمہ داری کم ہے آپ نے کئی حوالے پیش کئے مگر مولوی نور الحق صاحب نے خود اٹھ کر کہہ دیا میں تمام الزام قبول کو کرتا ہوں"۔عدالت کی طرف سے سزا کا فیصلہ جنس براڈوے نے سید دلاور شاہ صاحب بخاری، مولوی نورالحق صاحب کے بیانات اور چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی بحث سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ :- میں سید بخاری کو چھ ماہ قید محض اور ساڑھے سات سو روپے جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی چھ ہفتہ مزید قید محض کی سزا دیتا ہوں اور مولوی نور الحق کو ۳ ماہ قید محض ہزار روپے جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی مزید ایک ماہ قید محض کا حکم سناتا ہوں۔تمام ججوں نے اس سزا سے اتفاق کیا۔فور اپولیس کے "