تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 604
تاریخ احمد بیت جلد ۴ 569 خلافت عثمانیہ کا تیرھواں سال المسلمین " کتاب کے جواب میں تھی۔اس کتاب میں حضور نے مخالفین اسلام کے احادیث پر اعتراضات کے جواب اور احادیث کے فوائد میں نہایت مفید معلومات جمع کر دی ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح ہندو مسلم اتحاد سے متعلق وائسرائے ہند کے نام مکتوب الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے دسمبر ۱۹۲۶ ء میں وائسرائے ہند لارڈارون کے نام ایک طویل مکتوب لکھا۔جس میں ملک کے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندو مسلم کشیدگی اور منافرت کے ازالہ کے بارے میں نہایت اہم تجاویز رکھیں یہ خط " مسلم آؤٹ لک ( دسمبر ۱۹۲۶ء) کی متعدد قسطوں میں چھپنے کے علاوہ رسالہ کی صورت میں بھی شائع ہو گیا۔جسے لنڈن کے سیاسی حلقوں اور ہندوستان سے دلچسپی رکھنے والے مدبروں نے بڑے شوق اور دلچسپی سے پڑھا اور ہندو مسلم اتحاد کی گتھی سلجھانے کے لئے اسے ایک اہم اور مفید دستاویز قرار دیا۔اس سال ایک پرجوش احمدی ملک عبدالرحمن صاحب خادم میدان مناظرہ میں طالب علم نے میدان مناظرہ میں قدم رکھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس میدان کا شہسوار بن گیا اور اپنی علمی خدمات کی بناء پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے خالد کا لقب پایا۔ہماری مراد ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی سے ہے جنہوں نے ۱۹۲۶ء میں (جبکہ آپ کی عمر صرف سولہ سال کی تھی اور آپ میٹرک میں تعلیم پاتے تھے) سیالکوٹ کے ایک غیر احمدی عالم سے پہلا مناظرہ کیا۔ملک عبد الرحمن صاحب خادم اپنی وفات تک (جو ۳۱ دسمبر۱۹۵۷ء کو ہمقام لاہور ہوئی) لسانی و قلمی جہاد میں مصروف رہے۔اور ناقابل فراموش خدمات انجام دیں جیسا کہ آئندہ اپنے اپنے مقام پر ذکر آئے گا۔مگر یہ حقیقت ہے کہ ابتدا میں آپ کی شہرت مناظروں سے ہی ہوئی۔حالانکہ آپ نے کسی دینی درسگاہ میں کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ان کی اس خصوصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرمایا کہ۔" خادم صاحب مرحوم گجرات صوبہ پنجاب کے رہنے والے تھے اور کسی ایسے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔جس میں علمی تجر اور تبلیغی ذوق و شوق کی کوئی خاص روایات پائی جاتی ہیں۔بلکہ خود ملک صاحب مرحوم نے بھی کسی دینی درسگاہ میں تعلیم نہیں پائی اور نہ کسی عالم دین کی باقاعدہ شاگردی اختیار کر کے دین کا علم سیکھا ان کی درسی اور عرفی تحصیل علم صرف اس قدر تھی کہ انگریزی کالجوں کی فضا میں بی۔اے پاس کر کے وکالت کا امتحان دیا اور پھر بظا ہر ساری عمر عدالتوں میں گشت لگا کر اپنی