تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 603 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 603

تاریخ احمدیت جلد ۴ 568 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال بزدل نمذہبی دیوانے سفاک مسلمانوں کے ہاتھوں سوامی جی کا اس طرح جام شہادت پینا ایک دلدوز روح فرسا حادثہ ہے "۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا تبصرہ سوامی شردھانند کے قتل پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے سوامی شردھانند کے واقعہ قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا۔” یہ واقعہ کئی لحاظ سے اہم ہے ایک تو شردھانند صاحب آریوں اور پولٹیکل جماعتوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے دوسرے وہ ایک ہی ہندو تھے جن کو مسجد میں منبر پر چڑھا کر جہاں خدا کا کلام پڑھا جاتا اور سنایا جاتا ہے مسلمانوں نے ان کی تقریر کرائی اور جس کو اس لئے مسجد میں منبر پر کھڑا کیا گیا کہ اس کے ذریعہ سے ہندو مسلمانوں میں اتحاد ہو پانچ سال بعد اسی قوم کا فردا سے قتل کرتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ اس قتل کے نتیجہ میں وہ سیدھا جنت میں چلا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔تیرے اس لحاظ سے یہ واقعہ اپنے اندر اہمیت رکھتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔(آگے حضور نے اس کی تفصیل پر روشنی ڈالنے کے بعد فرمایا) گو یہ پیشگوئی کے مطابق ہوا لیکن یہ صحیح نہیں کہ جو بات پیشگوئی کے مطابق ہو وہ ضرو ر ا چھی ہوتی ہے۔مثلا یہ پیشگوئی ہے کہ نبی کی مخالفت ہو گی۔اس پر استہزاء کیا جائے گا لیکن باوجود اس کے اس کی مخالفت اور استہزاء اچھی بات نہیں۔پھر یہ بھی پیشگوئی ہوتی ہے کہ فلاں شخص دین کی راہ میں مارا جائے گا اور ایک شخص کے ناحق مارے جانے کی خبر دی جاتی ہے۔بہر حال اس فعل کے اندر بعض بھیانک باتیں جن کے باعث ہم اظہار نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتے جو قوم اس لئے مارتی ہے کہ اس کے مذہب پر لوگ حملہ کرتے ہیں وہ گویا ثابت کرتی ہے کہ اس کا مذہب تلوار کا محتاج ہے۔۔۔۔لیکن اسلام کی اشاعت تلوار سے نہیں ہوئی ہے جو شخص اسلام کے لئے تلوار اٹھاتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے۔اس لئے ہم اس فعل کی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے نہایت حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس نے قوم اور ملک کے امن کو برباد کر دیا ہے اور دین اسلام کو بد نام کر دیا ہے "۔پنڈت شردھانند کے قتل سے اسلام جیسے پر امن اور صلح و آشتی کے علمبردار مذہب کو کتنا بد نام کیا گیا اس کا اندازہ لگانے کے لئے صرف یہ بتانا کافی ہے کہ مسٹر گاندھی نے جو "ہندو مسلم اتحاد" کے سب سے زبر دست حامی لیڈر سمجھے جاتے تھے کہا۔" اسلام ایسے ماحول میں پیدا ہوا ہے جس کی فیصلہ کن طاقت پہلے بھی تلوار تھی اور آج بھی تلوار ہے "۔۱۲۳۴ حق الیقین کی تصنیف و اشاعت اس سال حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے " حق الیقین " کے نام سے ایک اہم تصنیف شائع فرمائی جو ہفوات