تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 590
تاریخ احمد بہت - جلد ۴ 555 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال دیا۔چنانچہ یہ دونوں اصحاب غزنوی صاحب کے ہمراہ وسط مارچ ۱۹۲۶ء میں پہلی بار قادیان آئے۔حضور نے نماز ظہر کے بعد مسجد مبارک میں ان کو شرف ملاقات بخشا اور بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔سید محمد طیب صاحب پندرہ ہیں روز قادیان میں مقیم رہنے کے بعد سرائے نورنگ چلے گئے اور سید ابوالحسن صاحب قدسی نے جنہیں بچپن سے عربی و فارسی پڑھنے کا شوق تھا۔مدرسہ احمدیہ کی چوتھی جماعت میں داخلہ لے لیا۔۱۹۳۱ء میں آپ نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور پہلے مدرسہ احمدیہ میں اور پھر جامعہ احمدیہ میں ۱۹۶۲ء تک تعلیمی خدمات بجالاتے رہے۔جماعت احمدیہ کے مرکز میں جماعت کے غریب و یتیم بچوں اور دوسرے "دار الشیوخ کا قیام محتاجوں اور معذوروں کے لئے کوئی تسلی بخش انتظام نہیں تھا۔حضرت ۱۹۵ میر محمد الحق صاحب نے اس اہم جماعتی ضرورت کی طرف توجہ فرمائی اور یکم مئی ۱۹۲۶ء سے دار الشیوخ " کے نام سے ایک اہم ادارہ قائم کیا 10 - جس میں غریب اور معذور بچے بلکہ بعض بوڑھے بھی کافی تعداد میں رہتے تھے اور حضرت میر صاحب اپنی پرائیوٹ کو شش کے ذریعہ ان کے اخراجات وغیرہ مہیا کر کے انہیں تعلیم دلاتے تھے اور اپنے عزیزوں کی طرح ان کی دیکھ بھال کرتے تھے اور نابینا بچوں کو قرآن مجید کے حفظ کرانے کا انتظام کرتے تھے۔دار الشیوخ میں پرورش پانے والے متعدد بچے مدرسہ احمدیہ جامعہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں پڑھے۔حضرت میر محمد اسحق صاحب نے "دار الشیوخ " کا جس رنگ میں انتظام فرمایا۔وہ بلا مبالغہ عدیم المثال تھا۔بتائی و مساکین اور بے سہارا لوگوں کے لئے آپ کی شفقت اور ہمدردی سے متعلق متعدد واقعات شائع شدہ ہیں۔جن میں سے بطور نمونہ صرف تین کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔حکیم عبد اللطیف صاحب شاہد ( گوالمنڈی لاہور) کا بیان ہے کہ ”میری دار الشیوخ میں تین سال تک بطور مہتمم تقرری کے زمانہ میں بیسیوں طالب علم قاریان بغرض تعلیم آئے جب خاکسار آپ کی خدمت میں ایسے کسی طالب علم یا غریب آدمی کو داخلہ کے لئے پیش کرتا تو تین سال کے لیے عرصہ میں مجھے یاد نہیں کہ آپ نے کسی کے داخلہ میں کبھی لیت و لعل فرمایا ہو۔دار الشیوخ میں کسی فرد کے داخلہ کے بعد آپ نہ صرف اس کی ضروریات کا پورا خیال رکھتے بلکہ اس کو بریکار بھی نہ رہنے دیتے۔اور اگر کوئی شخص طلب علم کی خواہش کرتا تو اسے ہائی سکول یا مدرسہ احمدیہ میں داخل فرما دیتے اور اگر کوئی درزی وغیرہ کا کام سیکھنا چاہتا تو اسے وہاں پر انچارج درزی خانہ مرزا مہتاب بیگ صاحب کے سپرد کر دية"۔- منشی محمد یسین صاحب سابق محرر نظارت ضیافت بیان کرتے ہیں کہ "دار الشیوخ میں ۱۷۵ کے