تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 591
یخ احمدیت جلد ۴ 556 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال قریب افراد کے کھانے کے لئے بڑی محنت کرنی پڑتی تھی۔اور اس کائنڈ بڑا کمزور تھا۔ایک دفعہ قاضی نور محمد صاحب مرحوم ہیڈ کلرک نظارت ضیافت نے عرض کیا کہ اب دار الشیوخ پر دو ہزار قرض ہو گیا ہے۔فرمایا کہ کل عصر کے بعد ٹانگہ لانا اور میرے ہمراہ چلنا دار الشیوخ کے لئے چندہ کی تحریک کرتا ہے۔دو سرے دن میں تانگہ لایا۔ہم دونوں سوار ہو گئے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کبیر مرحوم کے گھر کے پاس حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب ملے اور مصافحہ کیا۔نواب صاحب نے مصافحہ کے بعد فرمایا کہ ماموں جان آپ کو بخار ہے۔فرمانے لگے ہاں کچھ بخار تو ہے۔مگر دار الشیوخ پر کچھ قرضہ ہو گیا ہے اس کے لئے چندہ کرنے کو محلہ دار الرحمت جا رہا ہوں۔انہوں نے پچاس روپے جیب سے نکال کر دیئے۔مجھے فرمایا جیب میں رکھتے جاؤ۔جب نواب صاحب کچھ آگے نکل گئے تو فرمایا۔" بو ہنی " (ابتداء) تو اچھی ہو گئی۔غرض محلہ دار الرحمت میں پہنچے۔مغرب کی نماز کے بعد تحریک کی گئی مولانا ابو العطاء صاحب نے بھی تقریر کی تھی۔اہل محلہ نے کافی چندہ دیا اور کچھ غلہ بھی دیا۔دوسرے دن محلہ دار الفضل بھی گئے۔پھر دوسرے محلہ جات میں گئے اور ایک ہفتہ کے اندر اندر اڑھائی ہزار روپیہ چندہ جمع ہو گیا۔غلہ اس کے علاوہ تھا۔قاضی صاحب سے فرمانے لگے کہ جب کمی ہو جائے تو پھر بتانا " -۳- حافظ عبد العزیز صاحب موذن مسجد اقصیٰ قادیان کا بیان ہے کہ " ایک دفعہ ایک معزز احمد کی (192) قادیان تشریف لائے وہ بوجہ عدیم الفرصتی کے ایک گھنٹہ کے لئے حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالٰی کی ملاقات کو آئے تھے۔حضرت میر صاحب نے فور ابھائی احمد الدین صاحب ڈنگوی کی دکان سے ان کے لئے کسی اور ناشتے کا انتظام کیا اور ان کو ساتھ لے کر دار الشیوخ میں تشریف لائے اور فرمایا کہ جماعت کے یہ یتیم اور مسکین بچے ہیں یہ میرا باغ ہے جو میں نے اللہ تعالی کی خاطر لگایا ہے۔اس کی آبیاری میں آپ بھی حصہ لیں۔وہ احمدی دوست چند منٹ میں آپ کی باتوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ مبلغ پانچ نورہ روپے کی رقم ان بیانی کی اعانت کے لئے پیش کر دی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۹۴۳ء میں دار الشیوخ سے متعلق حضرت میر صاحب کی ان خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔میں سمجھتا ہوں جہاں ہماری جماعت مشترکہ طور پر یتانی د مساکین کی خبرگیری میں ناکام رہی ہے وہاں میر محمد اسحق صاحب نے اس میں کامیابی حاصل کرلی اور انہوں نے سوڈیڑھ سو ایسے غرباء اور تائی و مساکین کو جن کے کھانے پینے اور لباس اور رہائش وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں تھا اپنی نگرانی میں رکھ کر ایسے رنگ میں ان کی تربیت اور تعلیم کا کام کیا۔جو نہایت قابل تعریف ہے۔میر صاحب نے جن جن مشکلات میں یہ کام کیا ہے ان کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وہ مشکلات یقیناً ایسی ہیں