تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 582 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 582

تاریخ احمدیت 547 خلافت عثمانیہ کا بارھواں سا "میرے نزدیک کسی حکومت کے لئے جائز نہیں کہ وہ مذہبی معاملات میں زبردستی کرے یا زبر دستی کسی قوم کے قابل احترام مقامات کو گرائے یا ان پر قبضہ کرے۔پس ہر ایک اسلامی حکومت کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے علاقہ کے مسلمانوں کی عبادت گاہوں یا قابل احترام مقامات کو گراکر ملک میں فتنہ پیدا کرے۔لیکن ہاں میرے نزدیک دو مقام ایسے ہیں جن میں اگر کوئی مشرکانہ فعل ہوتا ہے تو اسلامی حکومت کے لئے جائز ہے کہ جبرا اس میں دست اندازی کرے اور ان مقامات کو اپنی حفاظت اور نگرانی میں رکھے ان مقامات مقدسہ میں سے ایک تو خانہ کعبہ ہے اور دوسرا مسجد نبوی ایک اسلامی حکومت کا حق ہے کہ ان پر اپنا قبضہ رکھے وہ بہر حال اسلامی حکومت کے قبضے میں رہنے چاہئیں اور اس قبضہ کی غرض صرف حفاظت ہونی چاہئے نہ کہ ان کے استعمال میں کسی قسم کی مشکل پیدا کرنا۔پس ان دونوں مقامات پر اسلامی حکومت کا قبضہ رہنا چاہئے جو یہ دیکھتی رہے کہ ان کی حفاظت کما حقہ ہو رہی ہے یا نہیں اور ان میں کوئی فعل شریعت کے خلاف تو نہیں کیا جاتا۔اگر کیا جاتا ہو تو اسے جبرا روک دے مثلاً اگر خانہ کعبہ میں بت پرستی ہو یا قبریں پوجی جاتی ہوں اور اسی طرح مسجد نبوی میں بھی کوئی مشرکانہ فعل ہو تا ہو تو میں کہوں گا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے اور اس حکومت کا کہ جس کے قبضہ میں یہ دونوں مقام ہوں حق ہے کہ لوگوں کو وہاں ایسا کرنے سے جبرا روک دے"۔اس اصولی بات کے بعد حضور نے روضہ رسول عربی کی نسبت فرمایا کہ۔بعض لوگ جب دوسری قبروں کے متعلق یہ دیکھتے ہیں کہ وہ شرک کا منبع بن رہی ہیں تو انہیں آنحضرت ا کے مقبرہ کے متعلق بھی یہی خیال گزرتا ہے کہ اس سے بھی شرک پیدا ہوتا ہے۔مگر اس کے متعلق ان کا یہ خیال کرنا غلطی ہے۔کیونکہ رسول کریم اے کے مزار مبارک پر جو گنبد بنایا گیا ہے۔وہ اس لئے نہیں کہ اس سے روضہ کی شان بڑی بنا کر پرستش کی جائے بلکہ وہ اس لئے بنایا گیا کہ شرک نہ ہو رسول کریم ﷺ کی قبر کو چھپانے کے لئے اس پر گنبد بنایا گیا تھا پس اس گنبد سے یہ قیاس کرنا غلطی ہے۔۔۔۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ کسی اعزاز کے لئے رسول کریم ﷺ کی قبر پر گنبد نہیں بنایا گیا۔بلکہ اس کی حفاظت کے لئے بنایا گیا۔اور اس غرض کے لئے بنایا گیا کہ تا آپ کی قبر چھپی رہے کسی اعزاز کے لئے رسول کریم ﷺ کی قبر گنبد کی محتاج نہیں۔اعزاز اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ بجائے خود ہے اور کسی بیرونی کوشش سے نہیں ہو سکتا۔پس اس کے لئے کسی گنبد کی یا کسی اور شے کی ضرورت نہ تھی۔آنحضرت ا جب زندہ تھے اس وقت صحابہ آپ کی حفاظت کرتے تھے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی وفات کے بعد دشمنوں سے بچانے کے لئے آپ کے جسم مبارک کی