تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 583
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 548 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال حفاظت مسلمان نہ کریں۔یہاں تو ایک گنبد کے لئے شور برپا ہے مگر میں کہتا ہوں حفاظت کے لئے اگر ایک سے زائد گنبد بھی بنانے پڑیں تو بنانے چاہئیں۔آج کل ہوائی جہازوں اور توپ کے گولوں اور دیگر اسی قسم کی ایجادوں سے پل بھر میں ایک عالم کو تباہ کر دیا جا سکتا ہے اس لئے آپ کی قبر کی حفاظت کا سوال اور بھی اہم ہو گیا ہے "۔خطبہ کے آخر میں حضور نے اہلحدیث اصحاب کو قیام توحید و استیصال شرک کے تعلق میں پورے پورے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اعلان فرمایا کہ۔" میں کہتا ہوں کہ شرک کو مٹاؤ لیکن شرک کو مٹاتے ہوئے رسول کریم اللہ کے نشانات اور شعائر اللہ نہ گراؤ اور ان مقامات کو ملیا میٹ نہ کرو جن کو دیکھ کر ایک شخص کے دل میں توحید کی لہر پیدا ہوتی ہے۔پس وہ قوم جو اہلحدیث کہلاتی ہے اور جس کا بڑا دعویٰ شرک کی بیٹھکنی ہے وہ بالضرور شرک کے مٹانے میں کوشش کرے اور ہم اس کوشش میں اس کے ساتھ ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ یہ نہ کرے کہ شعائر اللہ پر ہی کلہاڑا رکھ دے یا ان مقامات کی بنیادوں میں ہی پانی پھیر دے جن سے روایات اسلامی وابستہ ہیں۔۔۔۔۔" ۱۵۶ جنگ عظیم کے بعد شام پر فرانس نے قبضہ کر شام کی تحریک آزادی اور جماعت احمدیہ لیا۔شامیوں نے یہ قبضہ ختم کرنے کا تہیہ کر ۱۱۵۸۱ لیا۔چنانچہ ۱۹۲۵ کے آخر میں لبنان کی ایک جنگجو مسلمان پہاڑی قوم (دروز) نے تحریک آزادی کا علم بلند کر دیا۔شام کی فرانسیسی حکومت نے ستاون گھنٹے بلکہ بعض خبروں کے مطابق اس سے بھی زیادہ عرصہ تک دمشق پر گولہ باری کی جس سے یہ بارونق شہر تباہ و ویران ہو گیا اور ایسی تباہی آئی کہ تین ہزار سال سے ایسی تباہی اس شہر میں نہیں آئی تھی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام (مورخہ ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ء) پلائے دمشق " میں خبر دی گئی تھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۳/ نومبر ۱۹۲۵ء کو دمشق کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام اور اس کے عملی ظہور کی دردناک تفصیلات سنانے کے بعد اہل شام کی تحریک آزادی کی تائید کرتے ہوئے فرمایا۔" میں اس اظہار سے بھی نہیں رک سکتا کہ دمشق میں ان لوگوں پر جو پہلے ہی بے کس اور بے بس تھے۔یہ بھاری ظلم کیا گیا ہے۔ان لوگوں کی بے بسی اور بے کسی کا یہ حال ہے کہ باوجود اپنے ملک کے آپ مالک ہونے کے دوسروں کے محتاج بلکہ دست نگر ہیں میرے نزدیک شامیوں کا حق ہے کہ وہ آزادی حاصل کریں ملک ان کا ہے حکمران بھی وہی ہونے چاہیں۔ان پر کسی اور کی حکومت نہیں ہونی