تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 581 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 581

تاریخ احمد بیت، جلد ۴ 546 خلافت ثانیہ کا بارھواں نقصان نہ پہنچایا ہو مگر ان کی بے احتیاطی سے نقصان ضرور پہنچا۔پھر فرمایا۔گو میں سمجھتا ہوں تبے بنانے ناجائز ہیں۔مگر ہر جگہ نہیں بلکہ ضرورت کے وقت جائز ہیں۔اگر ان سے مراد قبر کی حفاظت نہیں تو نا جائز ہیں یا ان کے لئے ناجائز ہیں جو ہر حال میں ناجائز سمجھتے ہیں مگر خواہ کچھ ہی ہو ان کا یہ کام نہیں کہ ان کو توڑیں۔اس معاملے میں ہم نجدیوں کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ قبے بلا ضرورت بنانے ناجائز ہیں اور شرک میں داخل ہیں لیکن اس معاملہ میں ہم ان کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے کہ ان کو توڑنا اور گرانا بھی درست ہے۔ہماری ان باتوں کو دیکھ کر نجدیوں کے حامی کہیں گے کہ یہ بھی شریف علی کے آدمی ہیں لیکن اگر رسول اللہ ﷺ کی توقیر کے متعلق آواز اٹھاتے ہوئے شریف کا آدمی چھوڑ کر شیطان کا آدمی بھی کہہ دیں تو کوئی حرج نہیں ہم تو رسول اللہ ا کی خاطر سب سے محبت رکھتے ہیں۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اگر کوئی محبت رکھتے ہیں تو صرف اس لئے کہ وہ رسول کریم اللہ کے غلام تھے اور آپ کو جو کچھ حاصل ہوا اس غلامی کی وجہ سے حاصل ہوا۔۔۔بے شک ہم قبوں کی یہ حالت دیکھ کر خاموش رہتے لیکن رسول کریم ﷺ کی محبت اور عزت کی خاطر ہم آواز بلند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں جس سے ہم نجدیوں کے ہاتھ روک سکیں۔ہاں ہمارے پاس سہام الکیل ہیں۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کے مزار مقدس اور مسجد نبوی اور دوسرے مقامات کو اس ہتھیار سے بچائیں۔ہماری جماعت کے لوگ راتوں کو انھیں اور اس بادشاہوں کے بادشاہ کے آگے سر کو خاک پر رکھیں جو ہر قسم کی طاقتیں رکھتا ہے اور عرض کریں کہ وہ ان مقامات کو اپنے فضل کے ساتھ بچائے عمارتیں گرتی ہیں اور ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن ان عمارتوں کے ساتھ اسلام کی روایات وابستہ ہیں۔پس ہمیں دن کو بھی رات کو بھی ، سوتے بھی اور جاگتے بھی دعا ئیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالیٰ اپنی طاقتوں سے اور اپنی صفات کے ذریعہ سے ان کو محفوظ رکھے اور ہر قسم کے نقصان سے بچائے۔۔۔۔۔۔ددا معاملات حجاز میں جماعت احمدیہ کا موقف اس خطبہ کے کچھ عرصہ بعد ایک احمدی دوست نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں لکھا کہ مجھ سے بعض اہل حدیث اصحاب نے شکایت کی کہ توحید کے مسئلہ میں ہمارے عقائد ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔مگر ابن سعود کے معاملہ میں تم لوگ ہماری مخالفت اور حنفیوں کی تائید کرتے ہو۔نیز دھمکی دی کہ آپ لوگ اپنا رویہ نہیں بدلیں گے تو خلافت کمیٹیاں جو اس وقت تک آپ کے لیکچروں کی مؤید ہو رہی ہیں تائید کرنا چھوڑ دیں گی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس پر ۲۷/ نومبر ۱۹۲۵ء کو ایک مفصل خطبہ دیا۔جس میں معاملات حجاز کی نسبت جماعت احمدیہ کے موقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :-