تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 33
تاریخ احمدیت جلد ۴ 25 سیدنا حضرت خدیمہ ناسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ساتھ نماز میں کھڑے تھے اور پھر سجدہ میں بہت رو رہے تھے بچپن سے ہی آپ کو فطر تا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ خاص تعلق محبت تھا"۔اسی نوعیت کا ایک ایمان افروز واقعہ حضرت شیخ غلام احمد واعظ بھی بیان فرمایا کرتے تھے کہ۔ایک دفعہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آج کی رات مسجد مبارک میں گزاروں گا۔اور تنہائی میں اپنے مولی سے جو چاہوں گا مانگوں گا۔مگر جب میں مسجد میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص سجدے میں پڑا ہوا ہے اور الحاج سے دعا کر رہا ہے۔اس کے اس الحاح کی وجہ سے میں نماز بھی نہ پڑھ سکا۔اور اس شخص کی دعا کا اثر مجھ پر بھی طاری ہو گیا۔اور میں بھی دعا میں محو ہو گیا اور میں نے یہ دعا کی کہ یا الہی یہ شخص جو تیرے حضور سے جو کچھ مانگ رہا ہے وہ اس کو دے دے اور میں کھڑا کھڑا تھک گیا۔کہ یہ شخص سراٹھائے تو معلوم کروں کہ کون ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے وہ کتنی دیر سے آئے ہوئے تھے۔مگر جب آپ نے سر اٹھایا۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ہیں۔میں نے اسلام علیکم کی اور مصافحہ کیا۔اور پوچھا میاں آج اللہ تعالیٰ سے کیا کچھ لے لیا۔تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو یہی مانگا ہے کہ الہی مجھے میری آنکھوں سے اسلام کو زندہ کر کے دکھا۔اور یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے " حضرت شیخ محمد اسمعیل سرساوی کا بیان ہے کہ۔ہم نے اپنی آنکھوں سے آپ کے بچپن کو دیکھا اور پھر اسی بچپن میں آپ کے ایثار اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کو خوب دیکھا۔ہم نے دیکھا کہ آپ کے قلب میں دین کا ایک جوش موجزن تھا۔اور بچپن ہی سے آپ دعاؤں میں اس قدر محو اور غرق ہوتے تھے کہ ہم تعجب سے دیکھا کرتے تھے کہ یہ جوش ہم میں کیوں نہیں۔آپ بعض وقت دعا میں ایسے محو ہوتے تھے کہ ہم ہاتھ اٹھائے اٹھائے تھک جاتے تھے لیکن آپ کو اپنی محویت میں اس قدر بھی معلوم نہ رہتا کہ کس قدر وقت گزر گیا ہے چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سورج گرہن کی نماز پڑھنے کے لئے ہم مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئے نماز مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے پڑھائی اور نماز کے بعد مولوی صاحب نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ ”میاں آپ دعا شروع کریں۔" آپ نے دعا شروع فرمائی۔مگر آپ اس دعا میں ایسے محو ہوئے کہ آپ کو یہ خبر ہی نہ رہی کہ میرے ساتھ اور لوگ بھی دعا میں شریک ہیں دعا میں جس قدر لوگ شامل تھے ان کے ہاتھ اٹھے اٹھے اس قدر تھک گئے کہ وہ شل ہونے کے قریب ہو گئے۔اور کئی کمزور صحت کے لوگ تو پریشان ہو گئے۔تب مولوی محمد احسن صاحب نے جو خود بھی تھک چکے تھے دعا کے خاتمہ کے الفاظ بلند