تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 32
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 24 سید تا حضرت خلیق لمسیح الثانی کے سواغ قبل از خلافت ۷۹ موعود علیہ الصلوة والسلام کی مجلس میں بیٹھا رہتا اور آپ کی باتیں سنتا۔ہم نے اس قدر مسائل سنے ہوئے ہیں کہ جب آپ کی کتابوں کو پڑھا جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام باتیں ہم نے پہلے سنی ہوئی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عادت تھی کہ آپ دن کو جو کچھ لکھتے دن اور شام کی مجلس میں آکر بیان کر دیتے اس لئے آپ کی تمام کتابیں ہم کو حفظ ہیں اور ہم ان مطالب کو خوب سمجھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منشا اور آپ کی تعلیم کے مطابق ہوں "۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل سے مروی ہے کہ حضرت صاحب ایک دفعہ سالانہ جلسہ پر تقریر کر کے واپس گھر تشریف لائے تو حضرت میاں صاحب ( خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی سے جن کی عمر اس وقت ۱۰- ۲ سال کی ہوگی پوچھا کہ میاں یاد بھی ہے کہ آج میں نے کیا تقریر کی تھی۔میاں صاحب نے اس تقریر کو اپنی سمجھ اور حافظہ کے موافق دہرایا۔تو حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے خوب یا درکھا ہے "۔آپ کے عہد طفولیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ نظر آتی ہے کہ آپ کو چھوٹی عمر سے ہی نماز پڑھنے اور لمبی لمبی دعائیں کرنے کا بے حد شوق تھا۔دراصل آپ روزانہ اپنی آنکھوں سے قبولیت دعا کے تازہ تازہ نشانات اور معجزات مشاہدہ کرتے تھے جنہوں نے آپ کو رفتہ رفتہ معرفت بصیرت اور یقین و ایمان کی مستحکم چٹان پر کھڑا کر دیا تھا۔خود فرماتے ہیں۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت کے ایسے نشان دیکھے ہیں کہ ان کے دیکھنے کے بعد خد اتعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔پھر خود اپنی ذات میں بھی اس نشان کا مشاہدہ کیا ہے اور بارہا حیرت انگیز ذرائع سے دعاؤں کو قبول ہوتے دیکھا ہے"۔اس سلسلہ میں بطور نمونہ بچپن کے تین واقعات ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔حضرت مفتی محمد صادق کی چشم دید شہادت ہے کہ۔چونکہ عاجز نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت ۱۸۹۰ء کے اخیر میں کرلی تھی۔اور اس وقت سے ہمیشہ آمد و رفت کا سلسلہ متواتر جاری رہا۔میں حضرت اولو العزم مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالی کو ان کے بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ کس طرح ہمیشہ ان کی عادت حیا اور شرافت اور صداقت اور دین کی طرف متوجہ ہونے کی تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دینی کاموں میں بچپن سے ہی ان کو شوق تھا نمازوں میں اکثر حضرت مسیح موعود کے ساتھ جامع مسجد میں جاتے اور خطبہ سنتے۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے جب آپ کی عمر دس سال کے قریب ہو گی آپ مسجد اقصیٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے