تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 34
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 26 سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت آواز میں کتنے شروع کئے جسے سن کر آپ نے دعا ختم فرمائی۔حضرت شیخ محمد اسمعیل نے اپنے اس بیان میں مزید یہ لکھا ہے کہ۔سیدنا محمود ایده ہم نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا ہے۔ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ لڑکا جس کا پیشنگوئی میں ذکر ہے وہ میاں محمود ہی ہیں اور ہم نے آپ سے یہ بھی سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ”میاں محمود میں اس قدر دینی جوش پایا جاتا ہے کہ میں بعض اوقات ان کے لئے خاص طور پر دعا کرتا ہوں"۔حضرت مسیح موعود کی بعض ابتدائی کتابوں میں آپ کا ذکر مبارک اللہ تعالی کی عمر بمشکل دو سال کی ہوگی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۱ء کے آغاز میں دعوئی مسیحیت کا اعلان فرمایا۔حضور نے اسی سال سے جہاں اپنے دعاوی کے ثبوت میں دوسرے زبر دست نشانات پبلک کے سامنے رکھنے شروع کئے وہاں آپ نے التزام کے ساتھ پیشگوئی متعلقہ پسر موعود کی بھی بار بار منادی کرنا شروع کر دی۔اور اپنی کتابوں میں بڑے زور شور سے تمام لوگوں کو توجہ دلانے لگے کہ پسر موعود سے متعلق آسمانی نشان کو بھی یاد رکھیں کہ یہ آپ کی سچائی اسلام کی سچائی اور محمد رسول اللہ کی سچائی پر ایک عظیم الشان برہان ہے۔چنانچہ ۱۸۹۱ ء سے ۱۸۹۴ء تک کے زمانے میں آپ نے جو کتابیں تصنیف فرما ئیں ان میں سے ازالہ اوہام "- " نشان آسمانی"- "آئینہ کمالات اسلام" اور "سر الخلافہ " میں پسر موعود کا ذکر بھی بڑی وضاحت سے موجود ہے۔" چنانچہ ازالہ اوہام میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہو گا جس کو مئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہو گی۔وہ آسمان سے اترے گا۔اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا۔وہ امیروں کو رستگاری بخشے گا۔اور ان کو جو شبہات کے زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔فرزند دلبند گرامی ارجمند مظهر الحق و العلاء كان الله نزل من السماء لیکن یہ عاجز ایک خاص پیشگوئی کے مطابق جو خدا تعالیٰ کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے مسیح موعود کے نام پر آیا ہے۔واللہ اعلم و علمها حكم "- نشان آسمانی" میں حضرت نعمت اللہ ولی کے قصیدہ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا۔دور او چون پرش یادگار بینم شود تمام بکام یعنی جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمونہ پر اس کا لڑ ک یاد گار رہ جائے گا