تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 543 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 543

508 خلافت ثانیہ کا بارھواں سا چھٹا باب (فصل اول) شہدائے کابل کی شہادت سے لے کر مسلمانان ہند کی ترقی و بهبود سے متعلق منظم جدوجهد خلافت ثانیہ کا بارھواں سال جنوری ۱۹۲۵ء تاد سمبر ۱۹۲۵ء ممطابق رجب ۱۳۴۳ھ تا جمادی الآخر ۱۳۴۴ھ) مولوی عبدالحلیم صاحب اور قاری نور علی صاحب کی شہادت امیر امان اللہ خان صاحب کی حکومت جس نے ۱۹۲۴ء میں مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کو محض اختلاف عقیدہ کی بناء پر سنگسار کرا دیا تھا عا لمگیر احتجاج پر اور بھی مشتعل ہو گئی اور اس نے ۵/ فروری ۱۹۲۵ء کو درد او ر احمدی مولوی عبد الحلیم صاحب ساکن چراسہ اور قاری نور علی صاحب ساکن کابل سنگسار کر دیئے man سرزمین کابل میں چند ماہ کے اندر ہونے والے اس دوسرے المناک حادثہ پر جس میں دو بے گناہوں کا خون بہایا گیا تھا۔دنیا کے انصاف پسند حلقوں نے پہلے سے زیادہ زور اور شدت سے اس کے خلاف احتجاج کیا۔احتجاج کرنے والوں میں دنیا بھر کے مشہور علمی دماغ شامل تھے۔مثلاً (برطانوی مؤرخ) ایچ جی ویلز ( نامور افسانہ نگار) سر آرتھر کونن - سرالیور لاج۔کرنل سر فرانس بینگ ہسبنڈ۔تصوف اسلامی کے ماہر پروفیسر نکلسن - جناب محمد علی جو ہر جناب عبد الماجد دریا آبادی۔مسٹر گاندھی ہندوستان کے ہندو مسلم پریس نے اس واقعہ کے خلاف پوری قوت سے آواز بلند کی چنانچہ بطور نمونه چند اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔" انڈین ڈیلی میل" (بمبئی) نے ۱۴ / فروری ۱۹۲۵ء کی اشاعت میں لکھا۔یہ خبر کہ کابل کے دو اور احمدی۔۔۔۔۔سنگسار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ہیں۔امیر افغانستان کی شہرت کو سوائے چند متعصب ہندوستانی ملانوں کے حلقے کے اور کسی قوم میں نہیں