تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 510
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 486 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاته میری زندگی اب تک ایسی ہی گزری ہے کہ سوائے اندوہ و ندامت کے اور کچھ حاصل نہیں۔میں اکثر غور کرتا ہوں کہ یہ بھی کیسی زندگی ہے کہ سوائے روزی کمانے کے کسی اور کام کی فرصت نہ ملے اور دنیا کے دھندوں میں پھنسا انسان طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا رہے۔آج جو ایک خوش قسمت کے محبوب حقیقی کے ساتھ وصال کی خبر آئی تو جہاں دل میں ایک شدید درد پیدا ہو وہاں یہ بھی تحریک ہوئی کہ تمہارے لئے یہ موقع ہے کہ اپنی ناکارہ زندگی کو کسی کام میں لاؤ اور اپنے تئیں افغانستان کی سرزمین میں حق کی خدمت کے لئے پیش کرد۔پھر میں اچانک رکا کہ کیا یہ محض میرے نفس کی خواہش نمائش تو نہیں کہ اس یقین پر کہ مجھے نہیں بھیجا جائے گا اپنے تئیں پیش کرتا ہے اور میں نے اپنے ذہن میں ان مصائب اور مشکلات کا اندازہ کیا جو اس رستہ میں پیش آئیں گی اور اپنے تئیں سمجھایا کہ فوری شہادت ایک ایسی سعادت ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی اور کیا تم محض اس لئے اپنے تئیں پیش کرتے ہو کہ شہادت کا درجہ حاصل کرو اور دنیا کے افکار سے نجات حاصل کر دیا تمہارے اندر یہ ہمت ہے کہ ایک لمبا عرصہ زندہ رہ کر ہر روز اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جان دو اور متواتر شہادت سے منہ نہ موڑو۔حضور انور میں کمزور ہوں ، ست ہوں ، آرام طلب ہوں لیکن غور کے بعد میرے نفس نے یہی جواب دیا ہے کہ میں نمائش کے لئے نہیں فوری شہادت کے لئے نہیں ، دنیا کے افکار سے نجات کے لئے نہیں بلکہ اپنے گناہوں کے لئے تو بہ کا موقعہ میر کرنے کے لئے اپنی عاقبت کے لئے ذخیرہ جمع کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنے تئیں اس خدمت میں پیش کرتا ہوں اگر مجھ جیسے نا بکار گنھگار سے اللہ تعالیٰ یہ خدمت لے اور مجھے یہ تو فیق عطا فرمائے کہ میں اپنی زندگی کے بقیہ ایام اس کی رضا کے حصول میں صرف کر دوں تو اس سے بڑھ کر میں کسی نعمت اور کسی خوشی کا طلب گار نہیں۔حضور میں مضمون نویس نہیں اور حضور کی بارگاہ میں تو نہ زبان یاری دیتی ہے نہ قلم جیسے کسی نے کیا ہے۔a بے زبانی ترجمان شوق بے حد ہو تو پھر ورنہ پیش یار کام آتی ہیں تقریریں کہیں اس لئے اس پر بس کرتا ہوں کہ میں جس وقت حضور حکم فرما دیں افغانستان کے لئے روانہ ہونے کو تیار ہوں اور فقط حضور کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلبگار ہوں۔رسالہ "خالد" دسمبر ۱۹۸۵ ء د جنوری ۱۹۸۶ ، صفحه ۱۸۱ تا ۱۸۴) والسلام حضور کا ادنی ترین خادم خاکسار ظفر اللہ