تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 503
احمد بیت - جلد ۴ 479 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے مزید حکم یہ دیا کہ نعمت اللہ خان کو قتل کرنے کی بجائے ایک بڑے ہجوم کے سامنے سنگسار کیا جائے۔اس فیصلہ کے مطابق ۳۱ / اگست ۱۹۲۴ء کو پولیس نے مولوی صاحب کو ساتھ لے کر کابل کی تمام گلیوں میں پھر ایا اور ہر جگہ منادی کی کہ یہ شخص آج ارتداد کی پاداش میں سنگسار کیا جائے گا لوگ اس موقعہ پر حاضر ہو کر اس میں شامل ہوں۔دیکھنے والوں کی شہادت ہے جس وقت آپ کو گلیوں میں پھرایا جا رہا تھا اور سنگساری کا اعلان کیا جارہا تھا تو آپ گھبرانے کی بجائے مسکرا رہے تھے۔گویا آپ کی موت کا فتویٰ نہیں دیا جارہا تھا بلکہ عزت افزائی کی خبر سنائی جارہی تھی۔آخر عصر کے وقت ان کو کابل کی چھاؤنی کے میدان میں (جسے شیر پور کہا جاتا ہے ) سنگسار کرنے کے لئے لے جایا گیا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس دنیا کی زندگی ختم ہونے سے پہلے ان کو اپنے رب کی عبادت کرنے کا آخری موقعہ دیا جائے حکام کی اجازت ملنے پر انہوں نے نماز پڑھی اور اس کے بعد کہا کہ اب میں تیار ہوں جو چاہو سو کرو۔چنانچہ آپ کمر تک گاڑ دیئے گئے اور پہلا پتھر کابل کے سب سے بڑے عالم نے پھینکا اس کے بعد ان پر چاروں طرف سے پتھروں کی بارش شروع ہو گئی۔یہاں تک کہ آپ پتھروں کے ڈھیر کے نیچے دب گئے اور خدا تعالیٰ کے راستے میں شہید ہو گئے۔انا للہ وانا الیه راجعون مولوی نعمت اللہ خان صاحب نے شہادت کے وقت جس جذ به فدائیت اور ایمانی جرأت کا نمونہ دکھایا۔اس کا اقرار کرتے ہوئے کابل کے ایک نیم سرکاری اخبار نے ۶/ ستمبر ۱۹۲۴ء کی اشاعت میں لکھا۔" مولوی نعمت اللہ بڑے زور سے احمدیت پر پختگی سے مصر رہا اور جس وقت تک اس کا دم نہیں نکل گیا سنگساری کے وقت بھی اپنے عقیدہ کو باد از بلند ظاہر کرتا رہا۔اخبار ڈیلی میل" کے کابلی نامہ نگار نے بتایا۔ایک بہت بڑا مجمع یہ فتوی عمل میں لانے کا نظارہ دیکھنے کے لئے جمع ہو گیا تھا مگر اپنے نہایت ہی خوفناک انجام کے باوجو د (جو اس کا انتظار کر رہا تھا) وہ شخص نہایت مضبوط اور پختگی کے ساتھ اپنے عقائد کا اظہار کرتا رہا اور اپنے آخری سانس تک اپنے عقیدہ پر قائم رہا۔اسی حالت میں کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر رہا تھا اس کثرت سے پتھروں کی بوچھاڑ ہونی شروع ہو گئی کہ چند لمحوں میں اس کا جسم کلی طور پر پتھروں کے بہت بڑے تو دے کے نیچے دب گیا - ( ترجمہ ) اسی طرح ایک آریہ اخبار "پر کاش" نے ۲۱ / ستمبر ۱۹۲۴ ء کے پرچہ میں لکھا۔”ہمارا احمدیوں سے سخت اختلاف ہے۔لیکن باوجود اس کے ہم انہیں مبارک باد دیتے ہیں کہ ان کی جماعت کے ایک