تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 491
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 467 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال جائیں پھر میں سمجھتا ہوں ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر خصوصیت سے جماعت کی دعاؤں اور شکریہ کے مستحق ہیں واقفیت کی وجہ سے انہوں نے اس سفر میں بہت کام کیا ہے۔۔۔۔ان کی وجہ سے بھی سلسلہ کے کاموں میں بہت کچھ مدد ملی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ برادرانہ حسن سلوک کے خلاف ہو گا اگر میں اس پہلے موقعہ پر جو مجھے اظہار خیالات کا اس سفر کے بعد ملا ہے ان کی خدمات کا اظہار نہ کروں "۔۔حضرت مصلح موعود کا ایک اہم مکتوب حضرت مصلح موعود نے ۱۸ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو کے نام حسب ذیل مکتوب سپرد قلم فرمایا۔۱۸/اکتوبر ۱۹۲۴ء مکرمی شیخ صاحب خان بهادر آصف زمان صاحب آف پیلی بھیت السلام علیکم۔آپ کا خط مورخہ گیارہ ستمبر ملا۔سفر کے حالات پر ہندوستان کے اخبار ہی حواس باختہ نہیں ، خود ہمارے لوگ جو اس ملک کے حالات سے واقف ہیں حیران ہیں۔پرانے رہنے والے اقرار کرتے ہیں کہ جس قدر ملک میں ہماری آمد پر شور ہوا ہے کسی بادشاہ کے آنے پر بھی پریس نے اس قدر نوٹس نہیں لیا۔یہاں کا پریس اپنے آپ کو سب سے اوپر خیال کرتا ہے اور پھر اس قدر بدلنے والا ہے کہ ایک دن لکھ کر دوسرے دن لکھنا اپنی ہتک خیال کرتا ہے مگر ہمارے متعلق کوئی ساتھ ستر اخبارات نے نوٹس لیا ہے اور بعض نے چھ چھ سات سات دفع لکھا ہے۔لیکچر اللہ تعالٰی کے فضل سے نہایت کامیاب رہا آخری دن برکت دینے کی درخواست بھی مجھی سے کی گئی۔لوگ کثرت سے سلسلہ کے حالات سے واقفیت کی طرف متوجہ ہیں آج ہی ایک شخص انگلستان کے ایک اور علاقے سے ملنے آیا ہوا تھا ایک مشہور سوسائٹی کا سیکرٹری ہے صرف ملنے کے لئے آیا تھا۔اس سوسائٹی کی مختلف ممالک میں شاخیں ہیں اور کئی ممبر پارلیمنٹ اس میں شامل ہیں، جنگ کے خلاف سوسائٹی ہے۔لڑکے کی پیدائش مبارک ہو۔خدا تعالیٰ اسے خاندان کے لئے بھی با برکت کرے اور خود سے بھی صاحب فضل بنائے نام حمید زمان رکھیں اور اگر یہ نام پہلے کسی لڑکے یا اور رشتہ دار کا ہو تو نا صر زمان۔میری صحت بالکل خراب ہو گئی ہے آنکھیں بہت کمزور ہو گئی ہیں بظاہر پچھلے چھ ماہ سے متواتر کام نے ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔ڈاکٹر لمبے اور فوری آرام کا مشورہ دیتے ہیں مگر سر دست یہ میسر ہوتا نظر نہیں آتا۔و على الله التوكل خاکسار مرزا محمود احمد