تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 481
تاریخ احمدیت جلد ۴ 457 خلافت حاشیہ کا گیارھواں سال ہوں جو اپنی مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اس مسجد کو بناتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ رواداری کی روح جو اس مسجد کے ذریعہ سے پیدا کی جاوے گی۔دنیا سے فتنہ و فساد دور کرنے اور امن و امان کے قیام میں بہت مدد دے گی۔اور وہ دن جلد آجائیں گے کہ لوگ جنگ و جدال کو ترک کر کے محبت اور پیار سے آپس میں رہیں گے"۔اس مضمون کے بعد (جس کا حاضرین پر ایک گہرا اثر تھا) حضرت خلیفتہ المسیح نے بنیادی پتھر رکھا جس پر انگریزی میں ایک مضمون درج تھا۔جس کے الفاظ ہم حضرت خلیفتہ المسیح ہی کے خط کے عکس کی صورت میں اگلے صفحہ پر درج کرنے کے علاوہ ذیل میں بھی نقل کر دیتے ہیں۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم۔خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر۔قل ان صلوتی و نسکی و محیای و مماتي لله رب العالمين۔میں میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی امام جماعت احمد یہ جس کا مرکز قادیان پنجاب ہندوستان ہے۔خدا کی رضا کے حصول کے لئے اور اس غرض سے کہ خدا تعالٰی کا ذکر انگلستان میں بلند ہو۔اور انگلستان کے لوگ بھی اس برکت سے حصہ پاریں جو ہمیں ملی ہے آج ۲۰/ ربیع الاول ۱۳۴۳ھ کو اس مسجد کی بنیاد رکھتا ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمام جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے۔اور اس مسجد کی آبادی کے سامان پیدا کرے اور ہمیشہ کے لئے اس مسجد کو نیکی ، تقوی، انصاف اور محبت کے خیالات پھیلانے کا مرکز بنائے اور یہ جگہ حضرت محمد مصطفی خاتم النبین الا اور حضرت احمد مسیح موعود نبي الله بروز و نائب محمد علیهما الصلوۃ و السلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لئے روحانی سورج کا کام دے اے خدا تو ایسا ہی کر۔۱۹ اکتوبر ۶۱۹۲۴