تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 473 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 473

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 449 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال ہیں ملامت اور طعن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس طرف متوجہ ہوں گے اور انگلستان کا پریس جو آزادی کا حامل ہے اس حقیقی آزادی کے حصول میں جس کے بغیر بچے اپنے باپ سے نہیں مل سکتے ہماری مدد کریں گے۔جو لوگ خیالات میں ہمارے مخالف ہیں کم سے کم ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہمارا اور ان کا مقصد ایک ہے یعنی دنیا میں نیکی کو قائم کرنا اور خدا تعالٰی سے انسان کا تعلق قائم کر کے بھی اخوت کو پیدا کرنا جس کا نتیجہ امن ہوتا ہے۔جب ہم مقصد کی یگانگت پر غور کر کے اپنے اپنے دائرہ میں کام کریں گے تو یقینا یہ یگانگت ایک ذرائع کے اختیار کرنے پر بھی ہمیں مجبور کر دے گی۔چونکہ ہمارا مقصد خدا اور بندوں کے درمیان اور بندوں اور بندوں کے درمیان نیک تعلق قائم کرنا ہے میں اہل انگلستان سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ مشرقی سوال کی طرف زیادہ توجہ کریں۔مشرق و مغرب باوجود کوشش کے روز بروز ایک دوسرے سے جدا ہو رہا ہے اور اگر جلد اس کی طرف توجہ نہ کی گئی تو اس کا نتیجہ دنیا کے لئے اچھا نہ ہو گا۔عقمندوں کو واقعات کی موجودہ صورت کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ یہ سوچنا چاہئے کہ ایسے حالات جو اس وقت پیدا ہو رہے ہیں آخر کار کیا نتیجہ پیدا کیا کرتے ہیں قوموں کی زندگی محدود نہیں ہوتی اس لئے ان کو اپنے مستقبل قریب پر نہیں بلکہ مستقبل بعید پر نظر ڈالنی چاہئے۔دنیا اپنی موجودہ حالت پر ہرگز نہیں رہ سکتی۔اگر اس میں تبدیلی نہ ہوئی تو یا دونوں تہذیبیں نئی اور پرانی تباہ ہو جائیں گی یا ان میں سے ایک ممر کیوں نہ دونوں ہی قائم رہیں؟ ہمدردی اور دور اندیشی اس بعد کو دور کر سکتے ہیں مگر یہ کام حکومتوں سے نہیں ہو سکتا بلکہ جب تک قومیں اس طرف توجہ نہ کریں گی یہ کام نہ ہو گا۔وہ لوگ کو تہ اندیش ہیں جو اس کام کے لئے حکومتوں کی طرف دیکھتے ہیں حکومتیں خود نہیں ہلا کرتیں بلکہ قومیں ان کو ہلایا کرتی ہیں۔ایک زبر دست طاقت نے دنیا میں کام شروع کیا ہوا ہے کیوں نہ ہم اسے اپنے مفید مطلب استعمال کرلیں ایک دریا جب اس کے پانی کو استعمال کیا جائے لاکھوں ایکٹر کو سیراب کر دیتا ہے لیکن جب اس کو اپنا کام کرنے دیا جائے ہزاروں گاؤں اور سینکٹروں جانوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔سو آؤ ہم سب مل کر بہتری کے لئے کوشش کریں اور بجائے اجاڑنے والوں کے آباد کرنے والے بنیں۔قیام لنڈن کا دوسرا ہفتہ ۲۹/ اگست سے ۱۴ ستمبر ۱۹۲۴ء تک دوسرے ہفتہ میں حضور کی مصروفیات میں بے حد اضافہ ہو گیا۔جس کی بڑی وجہ کابل میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی سنگساری کا المناک حادثہ تھا۔اس حادثہ کی اطلاع ملنے پر حضور نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے اور واقعات کی روک تھام کے لئے ضروری اور مناسب اقدامات فرمائے۔اور اس کے لئے