تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 472
تاریخ احمدیت جلد ۴ 448 خلافت ثانیہ کا گیار لائے تھے۔جب وہ صرف اکیلے تھے اور انکے ساتھ کوئی نہ تھا بلکہ علاوہ ہندوؤں مسلمانوں اور مسیحیوں کے جو طبعا ان کے مخالف تھے گورنمنٹ بھی ان پر مہدی کے دعوی کی وجہ سے شک کرتی تھی اس وقت انہوں نے یہ خبر دی تھی کہ خدا تعالیٰ ان کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا اور انگلستان میں خصوصاً اور دوسرے مغربی ممالک میں عموماً لوگ ان کے دعوئی کو قبول کر کے اسلام میں جس کے زندہ کرنے اور ان غلطیوں سے پاک کرنے کے لئے جو اسے لوگوں کے اجتہاد کی وجہ سے اس میں پیدا ہو گئی تھیں جو خدا کے الہام سے مدد پا کر اس کو پیش نہیں کرتے تھے داخل ہو جائیں گے اس دعویٰ کو چونتیس سال گزرے اور آج دنیا کے پر وہ پر ایک ملین کے قریب آدمی ان کو مانتا ہے اور یوروپین ممالک میں اور امریکہ میں بھی کئی لوگ ان پر ایمان لاچکے ہیں۔پس ماضی پر نظر کرتے ہوئے میں یقین کرتا ہوں کہ بقیہ حصہ پیشگوئی کا بھی پورا ہو کر رہے گا۔اسلام یعنی وہ اسلام جسے مسیح موعود نے زندہ کیا ہے اور جو انسانی اجتہادوں سے پاک ہے آخر پھلے گا اور انگلستان اس طرح ایک ایسے شخص سے نور پائے گا جو اس کے ماتحت ملک میں رہتا تھا جس طرح روم نے انہیں سو سال پہلے اپنے ایک ماتحت ملک کے نبی سے نور پایا ہے۔یہ امر مشکل معلوم ہوتا ہے مگر کون خیال کرتا تھا کہ ناصرہ کا مصلح دنیا پر غالب ہو گا۔خدا تعالیٰ ہمیشہ ایسے ہی لوگوں سے کام لیتا ہے۔جن کو دنیا ادنیٰ اور کمزور سمجھتی ہے تا اس کا جلال ظاہر ہو اور لوگ اس کو انسانی مدد کا محتاج نہ سمجھ لیں میں اہل انگلستان سے امید کرتا ہوں کہ وہ سنجیدگی سے اس شخص کے دعویٰ پر غور کرے جو یہ کہتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس سے اسی طرح بولتا تھا جس طرح کہ وہ پہلے نبیوں سے بولا اور ان کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر وہ اس کی طرف توجہ کریں گے تو وہ اسی طرح خدا کا جلال اپنے اندر پائیں گے اور اس کا کلام سنیں گے جس طرح کہ پہلے نبیوں کے حواریوں نے محسوس کیا اور سنا۔مسیح موعود کا دعویٰ تھا کہ وہ صلح کے شہزادے ہیں اور یہ کہ ان کے ہاتھ پر دنیا اکٹھی کی جائے گی اور امن قائم ہو گا پس ہر اک امن پسند کا فرض ہے کہ وہ ان کے دعوئی پر غور کرے تا اس کی سستی اس مقصد کو پیچھے نہ ڈال دے جس کے حصول کے لئے وہ کوشاں ہے۔کوئی کچی اخوت قائم نہیں ہو سکتی جس کی بنیاد خدا کے ساتھ تعلق پر نہ ہو کیونکہ بھائیوں کا رشتہ باپ کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو باپ کو پہچانتا ہے وہ باپ کے حق کو پہچان سکتا ہے اور اس زمانہ میں صرف مسیح موعود ہی ایک ایسا شخص ہے جو دعوی کرتا ہے کہ وہ باپ سے اسی دنیا میں انسان کو ملا دیتا ہے اور نہ صرف دعوی کرتا ہے بلکہ ہزاروں جنہوں نے اس کی تعلیم پر عمل کیا انہوں نے خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی طرح سنا جس طرح کہ پہلے نبیوں کے حواری سنتے تھے چنانچہ راقم مضمون بھی ان میں سے ایک ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ انگلستان ہمارے مشن کی ہمدردانہ طور پر مدد کرے گا اور تمام وہ لوگ جو بچے طور پر خدا تعالیٰ کی محبت کے مشتاق