تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 468 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 468

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 444 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال ہماری مادری زبان ہے اور کوئی ہندی خواہ وہ کیسا ہی عالم ہو ہم سے زیادہ قرآن وحدیث کے معنی سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔آپ نے یہ گفتگو سن کر اس کے خیال کی تردید فرمائی اور ساتھ ہی تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ مبلغ تو ہم نے ساری دنیا میں ہی بھیجنے ہیں۔مگر اب ہندوستان واپس جانے پر میرا پہلا کام یہ ہو گا کہ آپ کے ملک میں مبلغ روانہ کروں اور دیکھوں کہ خدائی جھنڈے کے علمبرداروں کے سامنے آپ کا کیا دم خم ہے۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا کہ ولایت سے واپسی پر دمشق میں دار التبلیغ قائم کرنے کے لئے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمس کو بھجوا دیا جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔دمشق سے پورٹ سعید تک حضور ۱۰/ اگست ۱۹۲۴ء کو دمشق سے روانہ ہو کر بیروت سے ہوتے ہوئے حیفا پہنچے۔اور پھر سکہ میں بہائیوں کا مرکز دیکھنے تشریف لے گئے۔مگر وہاں جا کر آپ کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب آپ کو معلوم ہوا کہ بلکہ میں کوئی بھائی نہیں ہے بلکہ مکہ سے تین چار میل پرے ایک گاؤں ہے جس کا نام منشیہ ہے۔اس میں یہ لوگ رہتے ہیں۔بڑی مشکل سے موٹروں پر وہاں پہنچے۔بہجہ میں مرزا محمد علی صاحب سے جو مرزا عباس علی صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔معلوم ہوا کہ یہ گمنام سی جگہ ہے کبھی کبھار کوئی مہمان آجاتا ہے تو مکان کے ایک گوشہ میں ٹھہر جاتا ہے۔جب بہائیوں کی تعداد کے متعلق ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ صحیح تعداد تو نہیں بتائی جاسکتی مگر جو کچھ بہائی ہیں ایران ہی میں ہیں پھر کچھ امریکہ میں ہیں باقی ملکوں میں یونہی تھوڑے ہیں۔حضور بجہ میں دو گھنٹے تک ٹھرے مگر کچھ معلوم نہ ہوا کہ اس جگہ کوئی اور بھی آباد ہے۔یہاں سے فارغ ہو کر حضور اپنے قافلہ سمیت واپس حیفا پہنچے اور دوسرے دن صبح پورٹ سعید کی طرف روانہ ہوئے حنا Ar پورٹ سعید سے برنڈ زی تک ۱۳ اگست ۱۹۲۴ء کو آپ کا جہاز جس کا نام پلنا تھا پورٹ سعید سے برنڈزی کے لئے روانہ ہوا۔حضور کی طبیعت متواتر سفروں شب بیداریوں اور غذا کی بے ترتیبیوں اور خصوصاً د مشق کی متواتر لمبی لمبی تقریروں کی وجہ سے پہلے ہی ناساز تھی کہ بیروت پہنچ کر بیماری کا سخت حملہ ہوا۔بیروت سے حیفا تک کا سفر موٹر کے ذریعہ کرنا پڑا اور اس دن حضور کو دس بارہ اسہال ہوئے۔مکہ پہنچ کر حضور نے پھر اپنی تکلیف کا کچھ خیال نہ کیا اور گیارہ بجے رات تک بہائیوں سے گفتگو فرماتے رہے۔۱۲ بجے شب حیفا میں پہنچے اور پھر بیماری کی حالت میں حیفا سے پورٹ سعید تک آئے۔صحت کی خرابی کی یہ حالت دیکھ کر جہاز