تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 467
د - جلد ۴ 443 خلافت عثمانیہ کا گیارھواں سال گالیاں بھی دیں لیکن اکثر نہایت محبت کا اظہار کرتے اور هذا ابن المہدی کہتے اور سلام کرتے مگر باوجود اس کے پولیس والوں نے کہا کہ اندر بیٹھیں۔ہماری ذمہ داری ہے اور اس طرح ہمیں اندر بند کر دیا گیا۔اس پر ہم نے برٹش قونصل کو فون کیا۔۔اس پر ایسا انتظام کر دیا گیا کہ لوگ اجازت لے کر اندر آتے رہے۔۔۔غرض عجیب رنگ تھا کالجوں کے لڑکے اور پروفیسر آتے۔کا پہیاں ساتھ لاتے اور جو میں بولتا لکھتے جاتے اگر کوئی لفظ رہ جاتا تو کہتے یا استاذ ذرا ٹھہرئیے۔یہ لفظ رہ گیا ہے۔گویا انجیل کاوہ نظارہ تھا جہاں اسے استاد کر کے حضرت مسیح کو مخاطب کرنے کا ذکر ہے اگر کسی مولوی نے خلاف بولنا چاہا تو وہی لوگ اسے ڈانٹ دیتے ایک مولوی آیا جو بڑا بااثر سمجھا جاتا تھا۔اس نے ذرا نا واجب باتیں کیں تو تعلیم یافتہ لوگوں نے ڈانٹ دیا اور کہہ دیا کہ ایسی بیہودہ باتیں نہ کرو۔ہم تمہاری باتیں سننے کے لئے نہیں آئے اس پر وہ چلا گیا اور رؤسا معذرت کرنے لگے کہ وہ بے وقوف تھا۔اس کی کسی بات پر ناراض نہ ہوں یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔پھر منارۃ البیضاء کا بھی عجیب معاملہ ہوا۔ایک مولوی عبد القادر صاحب (المغربی- ناقل) حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست تھے۔ان سے میں نے پوچھا کہ وہ منارہ کہاں ہے جس پر تمہارے نزدیک حضرت عیسی نے اترنا ہے کہنے لگے۔مسجد امویہ کا ہے لیکن ایک اور مولوی صاحب نے کہا کہ عیسائیوں کے محلہ میں ہے ایک اور نے کہا حضرت عیسی آکر خود بنائیں گے۔اب ہمیں حیرت تھی کہ وہ کونسا منارہ ہے۔دیکھ تو چلیں صبح کو میں نے ہوٹل میں نماز پڑھائی اس وقت میں اور ذو الفقار علی خان صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے یعنی میرے پیچھے دو مقتدی تھے۔جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا سامنے منارہے اور ہمارے اور اس کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے۔میں نے کہا یہی وہ منارہے اور ہم اس کے مشرق میں تھے۔یہی وہ سفید منارہ تھا اور کوئی نہ تھا۔مسجد امویہ والے منار نیلے سے رنگ کے تھے جب میں نے اس سفید منارہ کو دیکھا اور پیچھے دوہی مقتدی تھے تو میں نے کہا کہ وہ حدیث بھی پوری ہو گئی " - "دمشق میں توقع سے بہت بڑھ چڑھ کر کامیابی ہوئی۔۔۔اخبارات نے لمبے لمبے تعریفی مضامین شائع کئے۔دمشق کے تعلیم یافتہ طبقے نے نہایت گہری دلچسپی لی۔تمام وہ اخبارات جن میں ہمارے مشن کے متعلق خبریں اور مضامین نکلتے تھے کثرت سے فورا فروخت ہو جاتے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اوپر شیخ عبد القادر مغربی کا ذکر فرمایا ہے۔ان کا ایک خاص واقعہ بھی ہے جس کا بیان کرنا ضروری ہے۔ان صاحب نے جو دمشق کے ادیب شہیر تھے حضور سے کہا کہ ایک جماعت کے معزز امام ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کا اکرام کرتے ہیں۔مگر آپ یہ امید نہ رکھیں کہ ان علاقوں میں کوئی شخص آپ کے خیالات سے متاثر ہو گا کیونکہ ہم لوگ عرب نسل کے ہیں اور عربی۔۔۔۔۔۔tt A-