تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 469 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 469

ت جلد ۴ 445 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال کے ڈاکٹر نے سفر جاری رکھنے کی بجائے کسی صحت افزا مقام پر آرام کرنے کا مشورہ دیا مگر حضور نے سفر منقطع کرنا پسند نہ فرمایا۔حضور کو پورٹ سعید میں قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل اور خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل کے خطوط سے معلوم ہوا کہ اخبار "پیغام صلح " آپ کے سفریورپ کے خلاف بہت زہر اگل رہا ہے۔اس پر حضور نے ۱۵/ اگست ۱۹۲۴ء کو تھوڑی دیر میں اہل پیغام سے خطاب کرتے ہوئے ایک نظم کہی جس کے تین شعر یہ تھے۔- پھیر لو جتنی جماعت ہے مری بیعت میں باندھ لو ساروں کو تم مکر کی زنجیروں پھر بھی مغلوب رہو گے مرے تا یوم البحث ہے یہ تقدیر خداوند کی تقدیروں سے ماننے والے مرے بڑھ کے رہیں گے تم سے قضا وہ ہے جو بدلے گی نہ تدبیروں سے حضور نے اس نظم کی تشریح میں ایک نوٹ سپرد قلم کر کے پوری نظم الفضل کو اشاعت کے لئے بھجوادی -۱۲ / اگست ۱۹۲۴ء کو ساڑھے نو بجے صبح آپ کا جہاز اٹلی کی بندرگاہ برنڈ زی پر پہنچا۔برنڈزی سے لنڈن حضور مع خدام برنڈزی سے ساڑھے چھ بجے شام کی گاڑی سے سوار ہو کر پوپ کا مرکز ہے۔۷ ا مر ا گست ۱۹۲۴ء کو ساڑھے نو بجے روما میں داخل ہوئے جو عیسائیت کے روما میں حضور کا قیام چار روز رہا۔اس عرصہ میں حضور برابر اشاعت سلسلہ کے کام میں مصروف رہے۔اخبارات کے نمائندوں اور فوٹوگرافروں نے آپ سے انٹرویو کئے۔حضور نے اٹلی کے وزیر اعظم مسولینی سے بھی ملاقات کی اور اسے سلسلہ احمدیہ کے اغراض و مقاصد بتائے۔مسولینی نہایت AA اکرام سے پیش آیا۔حضور کا ارادہ پوپ سے ملنے اور ان کو تبلیغ اسلام کرنے کا بھی تھا۔مگر پوپ نے آپ کی آمد پر ملاقاتوں کا سلسلہ بند کر دیا۔تاہم حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ان تک جو پیغام حق پہنچانا چاہتے تھے وہ خدا تعالیٰ نے دوسرے طریق پر پہنچا دیا۔یعنی روما کے سب سے مشہور اور کثیر الاشاعت اخبار لاٹر بیونا" نے حضور کا ایک مفصل انٹرویو شائع کیا۔حضور سے سوال کیا گیا کہ آپ پوپ کو ملتے تو کیا کہتے ؟ حضور نے جواب دیا۔” میں جب پوپ سے ملتا تو سب سے بہترین تحفہ جو میرے پاس ہے میں اسے پیش کرتا اور وہ یہ ہے کہ میں اسے دعوت اسلام دیتا اور اس نور کی طرف بلاتا جو انسانوں کو خدا تک پہنچا دیتا ہے اور یہ لفظ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کے نشانات اس میں پائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔بڑے بڑے آدمی عیسائیوں میں پائے جاتے ہیں جن کو بڑا نیک اور متقی کہا جاتا ہے۔مگر وہ کوئی نشان اپنی