تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 466 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 466

تاریخ احمدیت جلد ۴ 442 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال گفتگو کی اور انہوں نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ مسلمانوں کی یہ شکایت ایک حد تک بجا ہے مجھے بتایا کہ ایک دن پہلے ہی انہوں نے ایک تجویز وزارت برطانیہ کے غور کے لئے بھیجی ہے۔۔۔۔سمر کلیٹین صاحب کو پہلی ملاقات میں ہمارے سلسلہ سے بھی بہت دلچسپی ہو گئی اور گو ہم نے دوسرے دن روانہ ہو نا تھا۔مگر انہوں نے اصرار کیا کہ ڈیڑھ بجے ہم ان کے ساتھ کھانا کھائیں۔چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ تک دو سرے دن بھی ان کے ساتھ گفتگو ہوتی رہی اور فلسطین کی حالت کے متعلق بہت سی معلومات مجھے ان سے حاصل ہو ئیں۔بیت المقدس سے دمشق تک فلسطین سے چل کر ہم حیفا آئے جہاں سے کہ دمشق کے لئے گاڑی بدلتی ہے۔رات حیفا میں ٹھرنا پڑا۔چونکہ دس بجے صبح سے پہلے کوئی گاڑی نہ جاتی تھی۔صبح گاڑی لے کر میں سیر کے لئے گیا اور مجھے معلوم ہوا کہ بہائیوں کے لیڈر مسٹر شوقی آفندی مکہ کو چھوڑ کر حیفا میں آن بسے ہیں۔۔۔ہم ایک سڑک پر آرہے تھے۔ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے پاس چند قدم پر ہی مرزا عباس علی صاحب عرف عبد البہاء کا مکان ہے۔۔۔مولوی رحیم بخش صاحب - ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور میاں شریف احمد صاحب مکان دیکھنے کو چلے گئے۔شوقی آفندی تو رہاں موجود نہ تھے۔ان کے چھوٹے بھائی اور بعض دوسرے رشتہ دار (اور) بچے موجود تھے۔۔۔نہ کوئی علماء کی جماعت تھی نہ انتظام تھا۔۔۔حضور ۴/ اگست ۱۹۲۴ء کی صبح کو حیفا سے بذریعہ ریل روانہ ہو کر اسی شام کو ساڑھے آٹھ بجے کے قریب دمشق پہنچے اور ۹/ اگست تک یہاں مقیم رہے۔اللہ تعالی نے آپ کو مخالف حالات کے باوجود دمشق میں غیر معمولی طور پر کامیابی اور شہرت عطا فرمائی۔جس کی تفصیل خود حضور کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔فرماتے ہیں : " جب ہم دمشق میں گئے تو اول تو ٹھرنے کی جگہ ہی نہ ملتی تھی۔مشکل سے انتظام ہو مگر دو دن تک کسی نے کوئی توجہ نہ کی۔میں بہت گھبرایا اور دعا کی اے اللہ ! پیشگوئی جو دمشق کے متعلق ہے کس طرح پوری ہوگی۔اس کا یہ مطلب تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ہاتھ لگا کر واپس چلے جائیں۔تو اپنے فضل سے کامیابی عطا فرما۔جب میں دعا کر کے سویا تو رات کو یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہو گئے۔عبد مکرم یعنی ہمارا بندہ جس کو عزت دی گئی۔چنانچہ دوسرے ہی دن جب اٹھے تو لوگ آئے لگے یہاں تک کہ صبح سے رات کے بارہ بجے تک دو سو سے لے کر بارہ سو تک لوگ ہوٹل کے سامنے کھڑے رہتے۔اس سے ہوٹل والا ڈر گیا کہ فساد نہ ہو جائے۔پولیس بھی آگئی اور پولیس افسر کہنے لگا۔فساد کا خطرہ ہے۔میں نے یہ دکھانے کے لئے کہ لوگ فساد کی نیت سے نہیں آئے۔مجمع کے سامنے کھڑا ہو گیا۔چند ایک نے