تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 465 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 465

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 441 خلافت عثمانیہ کا گیارھواں سال احمدیہ مشن کو مضبوط کیا جائے۔۔۔۔۔چونکہ گرمی کا موسم ہے تمام عمائد اور علماء ملک کے ٹھنڈے علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں اس لئے اور زیادہ لوگوں سے ملنے کا موقعہ نہیں مل سکتا تھا۔مجھے جو مصر میں سب سے زیادہ خوشی ہوئی وہ وہاں کے احمدیوں کی ملاقات کے نتیجہ میں تھی تین مصری احمدی مجھے ملے اور تینوں نہایت ہی مخلص تھے دو ازہر کے تعلیم یافتہ اور ایک علوم جدیدہ کی تعلیم کی تحصیل کرنے والے دوست- متینوں نہایت ہی مخلص اور جوشیلے تھے اور ان کے اخلاص اور جوش کی کیفیت کو دیکھ کر دل رقت سے بھر جاتا تھا۔تینوں نے نہایت درد دل سے اس بات کی خواہش کی کہ مصر کے کام کو مضبوط کیا جائے۔قاہرہ سے بیت المقدس تک حضور فرماتے ہیں۔” دو دن کے قیام کے بعد ہم دمشق کی طرف روانہ ہوئے۔مگر چونکہ راستہ میں بیت المقدس پڑتا تھا۔مقامات انبیاء کے دیکھے بغیر آگے جانا مناسب نہ سمجھا اور دو دن کے لئے وہاں ٹھہر گئے یہودی قوم کی قابل رحم حالت جو یہاں نظر آتی ہے۔کہیں اور نظر نہیں آتی۔بیت المقدس کا سب سے بڑا معبد جسے پہلے مسیحیوں نے یہودیوں سے چھین۔۔۔۔۔کر مسلمانوں نے اسے مسجد بنا دیا اس کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر ہفتہ میں دو دن برابر دو ہزار سال سے یہودی روتے چلے آتے ہیں جس دن ہم جگہ کو دیکھنے کے لئے گئے۔وہ دن اتفاق سے ان کے رونے کا تھا۔عورتوں اور مردوں اور بوڑھوں اور بچوں کا دیوار کے پیچھے کھڑے ہو کر بائبل کی دعائیں پڑھ پڑھ کر اظہار عجز کرنا ایک نہایت ہی افسردہ کن نظارہ تھا۔۔۔۔۔بیت المقدس میں سے مندرجہ ذیل مقامات قابل ذکر ہیں۔ابو الانبیاء حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی قبور اور وہ مقام جس پر حضرت عمر نے نماز پڑھی اور بعد میں اس کو مسجد بنادیا گیا اور حضرت عیسی کی پیدائش کے مقامات (بیت لحم وغیرہ۔مؤلف ) وہاں کے بڑے بڑے مسلمانوں سے میں ملا ہوں۔میں نے دیکھا کہ وہ مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔مگر میرے نزدیک ان کی رائے غلط ہے یہودی قوم اپنے آبائی ملک پر قبضہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔۔۔قرآن شریف کی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ضرور اس ملک میں آباد ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔۔۔پس میرے نزدیک مسلمان رؤساء کا یہ اطمینان بالاخر ان کی تباہی کا موجب ہو گا۔فلسطین کے گورنرہائی کمشنر کہلاتے ہیں۔اصل ہائی کمشنر آج کل ولایت گئے ہوئے ہیں ان کی جگہ سر گلبرٹ کلین کام کر رہے ہیں۔میں ان سے ملا تھا ایک گھنٹہ تک ان سے ملکی معاملات کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔۔۔۔۔مسلمانوں کو عام طور پر شکایت تھی کہ تعلیمی معاملات میں ہمیں آزادی نہیں۔میں نے اس امر کے متعلق ان سے