تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 463
تاریخ احمدیت جلد ۴ 439 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال کو حضور دیر تک اسلامی عالم میں اتحاد عمومی پیدا کرنے کی ایک موثر تحریک کے قیام پر گفتگو فرماتے پر رہے۔۲۵ جولائی کو گیارہ اور ۱۲ بجے کے درمیان جہاز جدہ اور مکہ شریف کے سامنے سے گزرنے والا تھا۔حضور نے ارادہ فرمایا کہ خاص طور پر دعا کی جائے چنانچہ حضور نے دو رکعت نماز باجماعت پڑھائی جس میں بہت رقت انگیز دعائیں کیں - ۲۶/ جولائی کو حضور دن بھر مضمون لکھنے میں مصروف رہے۔NA ۲۸-۲۷ جولائی کو حضور نے اپنے قلم سے جماعت کے نام دوسرا مکتوب لکھا۔جو آپ کے اس اندرونی فکر و تشویش کا آئینہ دار تھا اور جو اس تصور سے آپ کو ہو رہی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یورپ اسلام کو تو قبول کرے مگر اسلامی تمدن اپنانے سے انکار کر دے۔اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اسلام کی بدلی ہوئی صورت پہلے یورپ میں پھر مار کی دنیا میں قائم ہو جائے گی اور مسیحیت کی طرح اسلام بھی مسخ ہو جائے گا۔حضور نے اس خط میں اپنی جماعت کو اس زبر دست خطرہ سے متنبہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا " ہمارا فرض ہے کہ اس مصیبت کے آنے سے پہلے اس کا علاج سوچیں اور یورپ کی تبلیغ کے لئے ہر قدم جو اٹھا ئیں اس کے متعلق پہلے غور کر لیں اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہاں کے حالات کا عینی علم حاصل نہ ہو۔پس اسی وجہ سے باوجود صحت کی کمزوری کے میں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے۔اگر میں زندہ رہا تو میں انشاء اللہ اس علم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔اگر میں اس جدوجہد میں مر گیا تو اے قوم میں ایک نذیر عریان کی طرح تجھے متنبہ کرتا ہوں کہ اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دیتا۔جس خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔پس کوشش نہ چھوڑنا۔نہ چھوڑنا نہ چھوڑنا۔آہ نہ چھوڑنا میں کس طرح تم کو یقین دلاؤں کہ اسلام کا ہر ایک حکم نا قابل تبدیل ہے خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا جو اس کو بدلتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے۔وہ اسلام کی تباہی کی پہلی بنیاد رکھتا ہے۔کاش وہ پیدا نہ ہوتا۔یورپ سب سے بڑا دشمن اسلام کا ہے۔وہ مانے یا نہ مانے تمہاری کوشش کا کوئی اثر ہو یا نہ کہو تم کو اسے نہیں چھوڑنا چاہئے اگر تم دشمن پر فتح نہیں پا سکتے تو تمہارا یہ فرض ضرور ہے کہ اس کی نقل و حرکت کو دیکھتے رہو اور پھر میں کہتا ہوں کہ یہ کس کو کس طرح معلوم ہوا کہ یورپ آخر اسلام کو قبول نہیں کرے گا۔یورپ کے لئے اسلام کا قبول کرنا مقدر ہو چکا ہے ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ وہ ایسی صورت سے اسلام کو قبول کرے کہ اسلام ہی کو نہ بدل دے "