تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 464
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 440 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال حضور مع خدام پورٹ سعید سے اسی دن ایکسپریس گاڑی سے قاہرہ پورٹ سعید سے قاہرہ تشریف لے گئے اور شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کے مکان پر فروکش ہوئے۔قاہرہ میں حضور کا قیام صرف دو دن رہا۔مگر آپ کی برکت و توجہ سے دو دنوں میں ہی قاہرہ کے اندر سلسلہ کی تائید میں ایک نئی رو پیدا ہو گئی۔حضور قیام مصر کی نسبت اپنے تاثرات و حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ہم قاہرہ میں صرف دو دن ٹھرے۔۔۔میرے نزدیک مصر مسلمانوں کا بچہ ہے جسے یورپ نے اپنے گھر میں پالا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے بلاد اسلامیہ کے اخلاق کو خراب کرے۔مگر میرا دل کہتا ہے اور جب سے میں نے قرآن کریم کو سمجھا ہے میں برابر اس کی بعض سورتوں سے استدلال کرتا ہوں اور اپنے شاگردوں کو کہتا چلا آیا ہوں کہ یورپین فوقیت کی تباہی مصر سے وابستہ ہے اور اب میں اسی بناء پر کہتا ہوں۔۔۔۔۔مصر جب خدا تعالیٰ کی تربیت میں آجائے گا تو وہ اسی طرح یورپین تہذیب کے مخرب اخلاق حصوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گا جس طرح حضرت موسیٰ فرعون کی تباہی میں۔بے شک اس وقت یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے مگر جو زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے میں نے قاہرہ پہنچتے ہی۔۔۔۔اس بات کا اندازہ لگا کر کہ وقت کم ہے اور کام زیادہ ساتھیوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ایک حصہ اخبارات و جرائد کے مدیروں کے ملنے میں مشغول ہوا اور دو سرا پاسپورٹوں اور ڈاک کے متعلق کام میں لگ گیا۔تیسرا سفر کی بعض ضرورتوں کو مہیا کرنے میں۔۔۔یہ علاقے تبلیغ کے لئے بہت روپیہ چاہتے ہیں مگر اسی طرح جب ان میں تبلیغ کامیاب ہو جائے تو اشاعت اسلام کے لئے ان سے مدد بھی کچھ مل سکتی ہے میں لکھ چکا ہوں کہ میں نے بعض دوستوں کو اخبارات کے ایڈیٹروں کے پاس ملنے کے لئے بھیجا تھا جن اخبار نویسوں سے ہمارے دوست ملے انہوں نے آئندہ ہر طرح مدد دینے کا وعدہ کیا۔حتی کہ وطنی اخباروں نے بھی۔علاوہ مذکورہ بالا لوگوں کے جن سے ملنے ہمارے لوگ خود جاتے رہے۔بعض لوگ گھر پر بھی ملنے آتے رہے۔چنانچہ جامع ازہر کے ماتحت جو خلافت کمیٹی بنی ہے۔۔۔۔اس انجمن کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری اور بعض اور دوسرے لوگ ملنے کے لئے آئے۔۔۔۔۔اس کے بعد مصر کے ایک مشہور صوفی سید ابو العزائم صاحب ملنے کے لئے آئے یہ صاحب بہت بڑے پیر ہیں کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ ان کے مرید ہیں۔علاوہ ان لوگوں کے دو اور معزز آدمی بھی ملنے کے لئے آئے۔لیکن افسوس کہ بوجہ باہر ہونے کے مجھے ان سے ملنے کا موقعہ نہ ملا ان میں سے ایک تو ترکی رئیس تھے۔۔۔۔۔دو سرے صاحب ایک وکیل تھے ان کے گھر پر بھی میں نے اپنے بعض ساتھیوں کو بھیجا انہوں نے۔۔۔۔۔۔مصریوں کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی کہ مصر میں